(ویب ڈیسک) انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ( آئی ایم ایف ٹیم) کا پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،کلائمیٹ فنڈ کے تحت 21 کروڑ ڈالر مزید ملیں گے،مجموعی رقم 5.7 ارب ڈالر ہو جائے گی۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی تنازع کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام برقرار رکھا،رواں مالی سال کے پہلے 3 سہ ماہی میں جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد رہی،سالانہ گروتھ 3.6 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔
اعلامیے کے مطابق مہنگائی مئی میں بلند ترین سطح پر، ستمبر میں کم ہو کر 10.3 فیصد پر آگئی،ستمبر کے آخر تک زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ فیول سپورٹ اسکیم جلد ختم کی جائے، بہت مہنگی اور غیر ہدفی ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخ بروقت بڑھائے جائیں تاکہ گردشی قرضہ نہ بڑھے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بجٹ میں 2 فیصد پرائمری سرپلس برقرار رکھنا، ٹیکس نظام کو آسان بنانا ہوگا،
صحت اور تعلیم پر اخراجات 2.2 سے بڑھ کر 2.5 فیصد ہوگئے، 2.8 فیصد تک لے جانے کا عزم ہے۔اسٹیٹ بینک سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھے، ایکسچینج ریٹ میں لچک ضروری ہے۔