(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری شدید کشیدگی کے دوران ایک اہم اور غیر معمولی بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ نومبر کے وسط میں ہونے والے امریکی انتخابات تک ایران پر کوئی فوجی حملہ نہیں کیا جائے گا، البتہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں کہا کہ نومبر کے وسط میں طے شدہ امریکی صدارتی انتخابات تک ایران کے خلاف کوئی براہِ راست حملہ نہیں کیا جائے گا۔
تاہم، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بدستور جاری رہے گی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید کشیدگی اور تناؤ کے باوجود سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ جاری بیک ڈور اور سفارتی بات چیت اس وقت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی توانائی منڈیوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ اور جنگی نگرانی کے سخت ترین پہرے میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے راستے خام تیل اور توانائی کے جہازوں کی محفوظ ترسیل کا عمل بلاتعطل جاری ہے۔