ایران کو 60 فیصد یورینیئم افزودگی ترک کرنا ہوگی، جے ڈی وینس کا مطالبہ

ایران کو 60 فیصد یورینیئم افزودگی ترک کرنا ہوگی، جے ڈی وینس کا مطالبہ
کیپشن: ایران کو 60 فیصد یورینیئم افزودگی ترک کرنا ہوگی، جے ڈی وینس کا مطالبہ

ویب ڈیسک: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے یورینیئم افزودگی کی صلاحیت میں ’’بامعنی کمی‘‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کا ثبوت دینے کے لیے تہران کو 60 فیصد افزودگی ترک کرنا ہوگی۔

جے ڈی وینس نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا تو اسے 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کی ضرورت کیوں ہے؟

عرب میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ واشنگٹن ایران سے افزودگی مکمل طور پر ختم کرانے کے بجائے اسے محدود کرنے پر غور کرسکتا ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق ایران یورینیئم کو 60 فیصد تک افزودہ کرچکا ہے، جبکہ جوہری ہتھیاروں کے لیے تقریباً 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے۔ ایجنسی کے مئی 2025 کے جائزے میں ایران میں منظم جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے قابلِ اعتماد شواہد نہیں ملے تھے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جنگ کے خاتمے سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرچکے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا سے مذاکرات کو ’’بے فائدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر بار مذاکرات کے بعد ایران پر حملہ کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق انصاف اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات ہی تنازع کے خاتمے کا راستہ ہیں۔

Watch Live Public News