ویب ڈیسک: نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے ایک ماہ قبل نئے عوامی جائزے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی اور جنگ کے حوالے سے امریکی عوام کی رائے سامنے آگئی۔
جائزے کے مطابق 71 فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی سے ناخوش ہیں، جبکہ 69 فیصد کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ مزید 65 فیصد امریکیوں نے معمول سے زیادہ قیمتوں کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو قرار دیا۔ یہ جائزہ 24 سے 28 ستمبر کے دوران 2 ہزار 140 امریکی بالغ افراد سے کیا گیا، جس میں ممکنہ غلطی کا تناسب 2.9 فیصد ہے۔
جائزے کے مطابق ایران جنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی خارجہ پالیسی کا اہم معاملہ بن چکی ہے، جبکہ جنگ کے باعث ایندھن اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے معاشی اثرات بھی عوام کی توجہ کا مرکز ہیں۔
امریکی کانگریس میں صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی کوششیں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ ستمبر میں ایوان نمائندگان نے ایران جنگ روکنے سے متعلق قرارداد 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے منظور کی تھی۔
نومبر کے انتخابات کے بعد کانگریس کے کسی بھی ایوان میں سیاسی اکثریت تبدیل ہونے کی صورت میں ایران جنگ، فوجی کارروائیوں اور جنگی اخراجات سے متعلق صدارتی اختیارات پر مزید پارلیمانی نگرانی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔