پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کی بڑی پیشکش

پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کی بڑی پیشکش
کیپشن: پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کی بڑی پیشکش

ویب ڈیسک: بلوم برگ کے مطابق ایران نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے جوہری معائنہ کاروں کو بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک رسائی دینے کی تجویز پیش کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کے سفارت کاروں سے ملاقاتوں کے دوران یہ تجویز پیش کی۔ ایران نے جوہری معائنہ کاروں کی رسائی کو پابندیوں میں نرمی سے مشروط کیا ہے۔ سفارت کاروں کے مطابق یہ تجویز امریکا کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکرات میں پیش رفت کی کوشش ہے۔

عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ ایران 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کو قانونی سمجھتا ہے اور اسے طبی و دیگر پرامن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اگر نیک نیتی کا مظاہرہ کرے تو ایران جوہری معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ مذاکرات کے لیے ضروری ہے۔

عراقچی نے کہا کہ جنگ یا مذاکرات کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔ ان کے مطابق ایران کسی بھی نئی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور گزشتہ جنگوں سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر اپنی حکمت عملی بہتر بنا چکا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ 2025 میں امریکا نے مذاکرات کی پیشکش کی، ایران نے اسے قبول کیا، تاہم بات چیت کے دوران ہی حملہ کردیا گیا۔ ان کے مطابق فروری 2026 میں بھی مذاکرات کی پیشکش قبول کی گئی، لیکن ایک بار پھر بات چیت کے دوران حملہ کیا گیا۔

Watch Live Public News