(ویب ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میں بڑا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں کہ ایران کو تباہ کردوں یا انہیں دوبارہ پنپنے دوں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہو چکا ہے، ملکی سرحدیں محفوظ ترین ہیں اور امریکا کا مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہے۔
امریکی معیشت، امن و امان اور دفاع:
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکا میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور امریکی معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین عسکری قوت ہے اور ملک میں غربت کی شرح تاریخی سطح تک نیچے آ چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج امریکا میں گزشتہ 125 سال کے مقابلے میں قتل و غارت کی شرح کم ترین سطح پر آ چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "لوگوں نے صرف امن کی باتیں کیں، جبکہ میں نے عملی طور پر امن کا قیام ممکن بنا کر دکھایا۔"
ایران سے متعلق بیان :
ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران پہلے مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ اور بدمعاشی قائم کیے ہوئے تھا لیکن اب وہ ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ وہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہا لیکن ایرانی قیادت نے انکار کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت کا موجودہ جارحانہ طرزِ عمل اس کی طاقت کا نہیں بلکہ اس کی کمزوری کا ثبوت ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت شدید دباؤ اور تباہی کا شکار ہے جہاں مہنگائی کی شرح 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ باقاعدہ ڈیل طے پا جائے گی۔
آبنائے ہرمز اور تیل کی ترسیل:
اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے حکمتِ عملی کے تحت آبنائے ہرمز کے راستے سے ایک ارب بیرل تیل کی محفوظ ترسیل ممکن بنائی ہے۔
پاک بھارت کشیدگی کا ذکر:
عالمی تنازعات کے حل پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ اور کشیدگی کو ختم کرانے میں اپنے کردار کا حوالہ دیا۔