3 لاکھ 15 ہزار سال پرانا انسان کیسا دکھتا تھا؟ سائنسدانوں نے چہرہ دوبارہ تیار کر لیا

3 لاکھ 15 ہزار سال پرانا انسان کیسا دکھتا تھا؟ سائنسدانوں نے چہرہ دوبارہ تیار کر لیا

(ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے انسانی تاریخ کے قدیم ترین افراد میں سے ایک کا چہرہ فرانزک ٹیکنالوجی کی مدد سے دوبارہ تشکیل دے دیا ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار سال قبل زمین پر بسنے والا ابتدائی انسان کیسا دکھائی دیتا تھا۔

یہ سائنسی تشکیلِ نو مراکش کے تاریخی مقام 'جبل ایرہود' سے ملنے والے قدیم ترین ہومو سیپینز (Homo sapiens) فوسلز کی مدد سے کی گئی ہے۔

اس منصوبے میں محققین نے 'ایرہود 1' نامی کھوپڑی اور فوسلز کو بنیادی بنیاد بنایا، جو انسانی نسل کی ابتداء اور تاریخ کے بارے میں سائنسی نظریات کو تبدیل کرنے والی اہم ترین دریافتوں میں شمار ہوتا ہے۔

جدید فرانزک اور ڈیجیٹل تکنیک سے تیار کردہ ماڈل کے مطابق اس قدیم انسان کا چہرہ کافی چوڑا اور پیشانی (ماتھے) کا ابھرا ہوا حصہ خاصا نمایاں تھا۔چہرے کے دانت، جبڑے اور مجموعی خدوخال آج کے جدید انسانوں سے خاصی مماثلت رکھتے ہیں، تاہم ان کی کھوپڑی جدید انسانوں کے مقابلے میں زیادہ لمبی اور پچھلی جانب سے کم گول تھی۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ کسی ایک مخصوص فرد کی 100 فیصد حتمی تصویر نہیں بلکہ دستیاب ہڈیوں اور فوسلز کے سائنسی شواہد پر مبنی ایک قریبی ماڈل ہے۔

چونکہ کھوپڑی کی ہڈیوں سے جلد کی اصل رنگت، آنکھوں کی پتلیوں، بالوں کی ساخت اور نرم بافتوں کی تفصیلات حاصل نہیں ہو سکتیں، اس لیے ان بیرونی پہلوؤں میں فنکارانہ اندازوں کی مدد لی گئی ہے۔

Watch Live Public News