بھارتی فوج جعلی مقابلوں کی دوڑ میں اپنے دعوؤں کو ہی غلط ثابت کرنے لگی، کے ایم ایس 

بھارتی فوج جعلی مقابلوں کی دوڑ میں اپنے دعوؤں کو ہی غلط ثابت کرنے لگی، کے ایم ایس 

(ویب ڈیسک ) کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس ) کے مطابق 29 ستمبر کو ضلع بڈگام میں جعلی مقابلے میں ایک ہی   کشمیری نوجوان   کو تیسری  بار شہید کرنے کا دعویٰ کردیا۔

کے ایم ایس کا  کہنا ہے کہ بھارتی فوج موسٰی نامی  شخص کو گزشتہ ڈیڑھ سال میں مختلف مواقع پر ہلاک ، زندہ اور دوبارہ ہلاک کرنے کے دعوے کر چکی ہے۔

کے ایم ایس کے مطابق  25 اپریل 2025 کو پولیس نے پہلگام کے مبینہ حملہ آور ہاشم موسیٰ کے خاکے جاری کیے۔23 جون 2025 کو این آئی اے (NIA) نے جموں پولیس کے خاکوں کو سرکاری طور پر غلط ثابت کیا ۔ 28 جولائی 2026 کو "آپریشن مہادیو" میں  ایک بار پھر بھارتی فوج نے موسیٰ نامی شخص کو مقابلے میں  شہید کرنے  کا ڈرامہ رچایا گیا اور اب 29 ستمبر 2026 کو ایک بار پھر  کشمیری نوجوان موسیٰ کی ایک بار پھر  ہلاکت کا راگ الاپا جا رہا ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ گودی میڈیا سنسنی خیز فیک نیوز کے حوالے سے دنیا بھر میں بدنام ہے۔ بھارتی فیک نیوز کا امریکی سفیر بھی تمسخر اڑا چکے ہیں۔بھارت فرضی مقابلوں اور غیر قانونی ہلاکتوں کے زریعے دس لاکھ فوج کو کشمیر میں رکھنے کا جواز بناتا ہے۔

کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں 5 ستمبر کو یاسر نامی نوجوان کو بھی اسی طرح کے جعلی مقابلے میں شہید کیا گیا تھا۔اے ایف ایس پی اے (AFSPA) جیسے کالے قوانین کے تحت  بھارتی فورسز کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے، جس کے بل بوتے پر وہ ریاستی دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کے ایم ایس کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں  بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 96,502 سے زائد کشمیری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں 7,421 سے زیادہ زیرِ حراست ہلاکتیں اور جعلی مقابلے ریکارڈ میں شامل ہیں۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں جعلی مقابلوں ، گمنام قبروں  اور ماوارئے عدالت ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

Watch Live Public News