ویب ڈیسک: ہنگری کی پارلیمنٹ نے وزیراعظم پیٹر میگیار سمیت تین قانون سازوں کا قانونی استثنیٰ ختم کردیا، جس کے بعد وزیراعظم کے خلاف موبائل فون چھیننے کے الزام میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پیٹر میگیار پر الزام ہے کہ انہوں نے جون 2024 میں بڈاپسٹ کے ایک نائٹ کلب میں ایک شہری کا موبائل فون چھین کر دریائے ڈینیوب میں پھینک دیا تھا۔ الزام کے مطابق شہری وزیراعظم کی ویڈیو بنا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے دوران دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد سکیورٹی گارڈز نے انہیں کلب سے باہر نکال دیا۔ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد میگیار نے فون دریا میں پھینک دیا۔ فون کی مالیت تقریباً 250 یورو بتائی گئی ہے، جسے بعد میں دریا سے نکال کر مالک کے حوالے کردیا گیا۔
ہنگری کے چیف پراسیکیوٹر نے ستمبر 2024 میں یورپی پارلیمنٹ سے میگیار کا استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم درخواست مسترد کردی گئی تھی۔
بعدازاں یورپی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہونے کے بعد میگیار ہنگری کی پارلیمنٹ کے رکن بنے اور انہیں مقامی سطح پر قانونی استثنیٰ حاصل ہوگیا۔ استغاثہ کی درخواست پر پارلیمنٹ نے اب ان کا استثنیٰ ختم کردیا ہے، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات آگے بڑھائی جارہی ہیں۔