ویب ڈیسک: لیبیا میں ایک عجیب و غریب اور دلچسپ واقعہ پیش آیا ہے جہاں طرابلس میں قائم ایک موبائل فون شاپ کو 16 سال بعد نوکیا موبائل فونز کی ڈیلیوری موصول ہوئی، جو دکاندار نے سال 2010 میں آرڈر کیے تھے۔
تفصیلات کے مطابق طرابلس کے ایک دکاندار نے 2010 میں نوکیا فونز کا آرڈر دیا تھا، تاہم 2011 میں لیبیا میں شروع ہونے والی خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام کے باعث ملک کا لاجسٹکس، کسٹمز اور تجارتی نظام بری طرح متاثر ہوا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں آرڈر کیا گیا پارسل مختلف گوداموں میں پھنس کر رہ گیا اور برسوں تک اپنی منزل تک نہ پہنچ سکا۔
Une commande de Nokia arrive avec 16 ans de retard
— Renard Jean-Michel (@Renardpaty) January 8, 2026
Un revendeur libyen, installé à Tripoli, avait commandé ces téléphones en 2010, mais n'a reçu sa livraison qu'en 2026. pic.twitter.com/0SoXaMCK7w
بالآخر رواں ماہ 2026 میں وہی فونز صحیح سالم حالت میں دکاندار تک پہنچ گئے، جنہیں دیکھ کر وہ خود بھی حیران رہ گیا جبکہ یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے بھی باعثِ تعجب تھا۔
پارسل کھولنے پر انکشاف ہوا کہ یہ وہی پرانے نوکیا ماڈلز ہیں جنہیں آج کے جدید اسمارٹ فونز کے دور میں تاریخی نوادرات سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں دکاندار اور دیگر افراد کو ہنستے اور فونز کا مذاق کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ کچھ افراد نے انہیں ماضی کی قیمتی یادگاریں بھی قرار دیا۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں صارفین اسے وقت کا عجیب مذاق قرار دے رہے ہیں۔