(ویب ڈیسک)شدید گرمی کے دوران چین کی ایک رہائشی عمارت کی چھت سے ٹھنڈی مسٹ خارج ہونے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
کئی دہائیوں سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بڑھتی ہوئی گرمی سے بچنے کے لیے ایئر کنڈیشنر سب سے مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اب چین اپنی گنجان آباد رہائشی عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے نئے طریقے آزما رہا ہے۔ انہی میں سے ایک منفرد نظام، جسے " روف ٹاپ رین" (Rooftop Rain) کہا جاتا ہے، اس وقت دنیا بھر کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ جدید شہری کولنگ سسٹم شمالی چین کے صوبہ شانشی کے شہر یون چینگ میں نصب کیا گیا ہے، جہاں متعدد بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر خصوصی مسٹنگ سسٹم لگائے گئے ہیں۔ یہ نظام ہوا میں نہایت باریک پانی کی بوندیں خارج کرتا ہے، جس کے نتیجے میں عمارت کے اردگرد کا درجۂ حرارت تقریباً 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو سکتا ہے۔
یہ نظام تبخیری ٹھنڈک (Evaporative Cooling) کے سائنسی اصول پر کام کرتا ہے۔ عمارتوں کی چھت پر نصب ہائی پریشر نوزلز پانی کی انتہائی باریک بوندیں فضا میں چھوڑتے ہیں۔ جب یہ بوندیں گرم ہوا کے ساتھ مل کر بخارات میں تبدیل ہوتی ہیں تو اپنے اردگرد کی حرارت جذب کر لیتی ہیں، جس سے ماحول ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ یہ عمل بالکل اسی طرح ہے جیسے انسانی جسم پر پسینہ بخارات بن کر جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ نظام صرف انتہائی گرم موسم میں مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے، کیونکہ پانی کی باریک بوندوں کو زمین پر گرنے کے بجائے گرم ہوا میں ہی بخارات بن جانا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو نیچے گزرنے والے لوگوں پر واقعی بارش جیسا منظر پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بعض ماہرین کے مطابق اسے "روف ٹاپ مسٹ" کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
Artificial rain turns this residential community into a misty wonderland. ️✨
— China Youth Daily (@CNYouthDaily) July 2, 2026
With water mist drifting through the landscape, the neighborhood looks peaceful, dreamy and almost unreal.#ResidentialCommunity #ArtificialRain #MistyViews #UrbanLandscape #ChinaStories #DreamyVibes… https://t.co/i3ohaGoU27 pic.twitter.com/3XapalKS8X
یہ منفرد کولنگ سسٹم حال ہی میں ریڈٹ اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو گیا، جہاں لاکھوں صارفین نے سوال اٹھایا کہ یورپ اور شمالی امریکہ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باوجود ایسا نظام بڑے پیمانے پر کیوں استعمال نہیں کیا جا رہا۔
اگرچہ یہ نظام بظاہر نہایت دلچسپ اور مؤثر دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی کارکردگی کے حوالے سے ابھی کئی سوالات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، اتنے بڑے پیمانے پر ٹھنڈک پیدا کرنے کے لیے کتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا وقت گزرنے کے ساتھ نوزلز میں معدنیات جمع ہو کر انہیں بند کر دیتی ہیں؟ اور کیا اس سے عمارتوں کے اندر کا درجۂ حرارت بھی نمایاں طور پر کم ہوتا ہے؟
???????????????????? Thousands die in Europe's heatwaves while brainless leaders BAN A/C when it's 40°C.
— Global Dissident (@GlobalDiss) July 1, 2026
This mist cooling system cuts temperatures by 5 to 8°C.
European politicians do EVERYTHING against their own people. pic.twitter.com/D9eEkuVHBA
ان سوالات کے واضح جواب ابھی سامنے نہیں آئے، تاہم اطلاعات کے مطابق چین کے کئی شہروں میں یہ نظام نصب کیا جا چکا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں یقیناً کچھ نہ کچھ مؤثر صلاحیت موجود ہے۔