(ویب ڈیسک) چین کے صوبے یونان کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے میں بچوں کو اسکول پہنچنے میں آسانی فراہم کرنے کے لیے 288 میٹر بلند آؤٹ ڈور لفٹ تعمیر کر دی گئی ہے، جس نے دشوار گزار پہاڑی سفر کو چند منٹوں کی سواری میں تبدیل کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نِیزھو دریا کی گرینڈ کینین میں واقع دور دراز گاؤں نِیزھو کے بچے پہلے اپنے بورڈنگ اسکول تک پہنچنے کے لیے تقریباً تین گھنٹے تک خطرناک پہاڑی راستوں پر پیدل سفر کرنے پر مجبور تھے۔ ہر تین ہفتے بعد انہیں یہ مشکل سفر کرنا پڑتا تھا، جس کے دوران پھسلنے اور گرنے کا خطرہ بھی موجود رہتا تھا۔
بچوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے 2022 میں مقامی حکام نے 268 میٹر بلند چِنگ یون لَیڈر لفٹ کا افتتاح کیا۔ یہ لفٹ ایک عمودی چٹان کے ساتھ تعمیر کی گئی تھی اور اس کے ذریعے بچے چند منٹوں میں پہاڑ کی بلندی تک پہنچنے لگے۔

تاہم اس منفرد لفٹ کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد سیاحوں کی بڑی تعداد بھی یہاں پہنچنے لگی، جس کے باعث لفٹ پر رش بڑھ گیا اور بعض اوقات لوگوں کو کئی گھنٹے قطار میں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اگرچہ بچوں کے لیے لفٹ کی سواری مفت تھی، لیکن انہیں بھی رش کے دوران اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔
صورتحال بہتر بنانے کے لیے پہلی لفٹ کے بالکل ساتھ ایک دوسری پینورامک لفٹ تعمیر کی گئی ہے، جسے فویاؤ لَیڈر لفٹ کا نام دیا گیا ہے۔
نئی لفٹ کی بلندی 288 میٹر (تقریباً 945 فٹ) ہے، جبکہ اس کا شافٹ پہلی لفٹ کے مقابلے میں 20 میٹر زیادہ طویل ہے۔ یہ نئی لفٹ پہلے سے زیادہ تیز اور کشادہ بھی ہے، جس کے باعث انتظار کا وقت تقریباً نصف رہ گیا ہے۔
اگرچہ بچوں کو اب بھی ایک شٹل کے ذریعے لفٹ تک پہنچنا پڑتا ہے اور اس کے بعد کیبل کار کا سفر کرنا ہوتا ہے، لیکن پورا سفر اب تقریباً 30 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ ماضی میں انہیں اسکول پہنچنے میں تقریباً تین گھنٹے لگتے تھے۔ یوں آنے جانے کا چھ گھنٹے طویل سفر بھی نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
ایک طالب علم نے ژنہوا نیوز کو بتایا کہ پہلے اسے اپنا سامان اٹھا کر تین گھنٹے تک پہاڑی راستوں پر چلنا پڑتا تھا، جہاں ذرا سی بے احتیاطی پر پھسلنے اور گرنے کا خدشہ رہتا تھا۔
اب دونوں لفٹوں کی بدولت ان بچوں کا کبھی تھکا دینے والا اور خطرناک اسکول سفر نہ صرف آسان ہو گیا ہے بلکہ دنیا کے منفرد ترین سفری تجربات میں بھی شامل ہو چکا ہے۔