چین کی مصنوعی سورج کی جانب بڑی پیشرفت، دنیا  کے سب سے بڑے فیوژن میگنیٹ کا کامیاب تجربہ

چین کی مصنوعی سورج کی جانب بڑی پیشرفت، دنیا  کے سب سے بڑے فیوژن میگنیٹ کا کامیاب تجربہ

(ویب ڈیسک ) چین نے دنیا کے سب سے بڑے 582 ٹن وزنی فیوژن میگنیٹ کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا ہے، جس سے ملک مصنوعی سورج (Artificial Sun) کی تعمیر کے ایک اور اہم مرحلے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

یہ فیوژن میگنیٹ چینی اکیڈمی آف سائنسز کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس نے تیار کیا ہے۔ یہ جوہری فیوژن کے ذریعے صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود توانائی پیدا کرنے کے لیے ایک نہایت اہم جزو ہے۔ بیجنگ کا ہدف ہے کہ تقریباً 2030 تک فیوژن توانائی سے بجلی پیدا کرنا شروع کر دی جائے۔

یہ نیا تیار کیا گیا ڈھانچہ ایک بہت بڑا D-شکل کا سپر کنڈکٹنگ میگنیٹ ہے، جسے میگنیٹک کنفائنمنٹ فیوژن کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی لمبائی 21 میٹر اور چوڑائی 12 میٹر ہے، اور اسے اب تک تعمیر ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا فیوژن ری ایکٹر میگنیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا حجم بین الاقوامی تھرمو نیوکلیئر تجرباتی ری ایکٹر (ITER) کے اسی نوعیت کے میگنیٹس سے 1.3 گنا زیادہ جبکہ اس میں ذخیرہ ہونے والی توانائی تین گنا زیادہ ہے۔

اس میگنیٹ کا بنیادی کام ایک انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان پیدا کرنا ہے، جو 100 ملین ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم پلازما کو قابو میں رکھ کر محفوظ طریقے سے محدود (Confinement) کرتا ہے، تاکہ جوہری فیوژن کا عمل ممکن ہو سکے۔

چین کے مطابق اس منصوبے میں استعمال ہونے والا تمام مواد اور مینوفیکچرنگ صلاحیتیں مقامی سطح پر فراہم کی گئی ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک اس شعبے میں غیر ملکی سپلائرز پر انحصار ختم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

واضح رہے کہ مصنوعی سورج (Artificial Sun) ایک ایسا جوہری فیوژن ری ایکٹر ہے، جسے سورج میں قدرتی طور پر ہونے والے فیوژن کے عمل کی نقل کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے، تاکہ مستقبل میں صاف، محفوظ اور طویل المدت توانائی حاصل کی جا سکے۔

Watch Live Public News