ویب ڈیسک: سائنسدان تاریخ میں پہلی بار یہ جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ انٹارکٹیکا کی سرزمین پر موجود کئی کلومیٹر موٹی برفانی تہوں کے نیچے کون سی حیرت انگیز جغرافیائی ساختیں پوشیدہ ہیں۔ ماہرین نے برف سے ڈھکے اس براعظم کے بارے میں ایسی غیر معمولی تفصیلات پیش کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انٹارکٹیکا میں جمی ہوئی موٹی برف اب تک سائنسدانوں کے لیے اس کی اصل زمینی ساخت کو سمجھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ تاہم اب جدید اور انتہائی اعلیٰ درجے کی نقشہ سازی تکنیکوں کی مدد سے یہ رکاوٹ بڑی حد تک دور کر لی گئی ہے۔
اس تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، جدید ریڈار سسٹمز اور انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کی حرکت سے متعلق طبیعی اصولوں کو استعمال کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں برف کے نیچے چھپی زمین کی تفصیلی تصویر سامنے آئی ہے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق انٹارکٹیکا کی برفانی تہوں کے نیچے ہزاروں بلند و بالا پہاڑی چوٹیاں، وسیع و عریض وادیاں اور گہری و تنگ گھاٹیاں موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ جغرافیائی ساخت بڑے پہاڑی سلسلوں، پیچیدہ نشیب و فراز اور وسیع وادیوں پر مشتمل ہے، جو اس خطے سے متعلق اب تک کی سب سے جامع اور حیران کن دریافت قرار دی جا رہی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نئی معلومات نہ صرف انٹارکٹیکا کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ مستقبل میں برفانی چادروں کے پگھلاؤ اور عالمی سطحِ سمندر میں ممکنہ اضافے کی درست پیش گوئی کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔