مصر: گیزہ کاعظیم ہرم کیسے تعمیر ہوا؟ سائنسدانوں نے پتہ چلا لیا

مصر: گیزہ کاعظیم ہرم کیسے تعمیر ہوا؟ سائنسدانوں نے پتہ چلا لیا
کیپشن: مصر: گیزہ کاعظیم ہرم کیسے تعمیر ہوا؟ سائنسدانوں نے پتہ چلا لیا

ویب ڈیسک: مصر کے اہرام صدیوں سے دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں اور ان سے جڑے کئی راز اب بھی مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکے۔ ان میں سب سے نمایاں گیزہ کا عظیم ہرم، المعروف ہرمِ خوفو ہے، جس کی تعمیر کو ساڑھے چار ہزار سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر اس کے اسرار آج بھی سائنسدانوں کو حیران کر رہے ہیں۔

ایک عرصے سے یہ سوال معمہ بنا ہوا تھا کہ قدیم مصریوں نے اتنے بھاری پتھروں کی مدد سے اتنی عظیم الشان عمارت کس طرح تعمیر کی، خاص طور پر اس وقت جب جدید مشینری موجود نہیں تھی۔ اب ایک نئی تحقیق میں اس حوالے سے ممکنہ جواب سامنے آ گیا ہے۔

گیزہ کے عظیم ہرم کی تعمیر سے متعلق کسی بھی قدیم تحریر میں یہ وضاحت نہیں ملتی کہ کئی ٹن وزنی پتھروں کو کس طرح اٹھا کر سیکڑوں فٹ بلندی تک پہنچایا گیا اور صرف دو دہائیوں میں یہ عظیم منصوبہ مکمل کیسے ہوا۔ ماضی میں یہ نظریہ پیش کیا جاتا رہا ہے کہ اہرام کی تعمیر کے لیے ریمپس کا استعمال کیا گیا، تاہم یہ نظریہ 60 ٹن وزنی پتھروں کو بلندی تک لے جانے کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔

اب سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر اہرام کی تعمیر کے لیے ایک خاص قسم کا پلی یا کاؤنٹر ویٹ میکنزم استعمال کیا گیا، جو ہرم کے اندر چھپا ہوا تھا۔ تحقیق کے مطابق مزدور حیران کن رفتار سے پتھروں کو اوپر منتقل کرتے تھے، بعض مواقع پر ایک منٹ میں ایک بلاک نصب کیا جاتا تھا، جو روایتی طریقوں سے ممکن نہیں تھا۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہرم کے اندر موجود ڈھلوانیں اور ساخت اس نظریے کو تقویت دیتی ہیں کہ کاؤنٹر ویٹ سسٹم کے ذریعے پتھروں کو اوپر کھینچا گیا۔ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ہرم کی تعمیر باہر سے نہیں بلکہ اندرونی حصے سے کی گئی اور خفیہ پلی سسٹمز کے ذریعے اسے بلند کیا جاتا رہا۔

اس سے قبل مئی 2024 میں ایک اور اہم تحقیق میں ماہرین نے دریائے نیل کی ایک ایسی شاخ دریافت کی تھی جو ہزاروں سال قبل صحرا کے نیچے بہتی تھی اور 30 سے زائد اہرام کے قریب سے گزرتی تھی۔ یہ دریافت اس معمہ کو بھی حل کرتی ہے کہ اتنے بھاری پتھر اہرام کی تعمیر کے لیے وہاں تک کیسے پہنچائے گئے۔

تحقیق کے مطابق تقریباً 40 میل طویل یہ شاخ کسی زمانے میں گیزہ کے عظیم ہرم اور دیگر اہرام کے گرد بہتی تھی، مگر وقت کے ساتھ صحرا اور زرعی زمین کے نیچے دفن ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 4700 سے 3700 سال قبل اسی دریا کی بدولت اس وادی میں 31 اہرام تعمیر کیے گئے، جو آج ایک ویران صحرائی علاقے میں تبدیل ہو چکی ہے۔

یہ وادی مصر کے قدیم دارالحکومت ممفس کے قریب واقع ہے، جہاں گیزہ کا عظیم ہرم بھی موجود ہے، جو دنیا کے سات قدیم عجائبات میں شامل واحد عجوبہ ہے جو آج بھی قائم ہے۔

جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ریڈار سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے دریا کی اس خفیہ شاخ کو دریافت کیا گیا، جبکہ زمینی سرویز اور نمونوں کی جانچ سے اس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

محققین کے مطابق کسی زمانے میں یہ دریا نہایت طاقتور تھا، تاہم تقریباً 4200 سال قبل قحط سالی کے باعث اس کا بہاؤ کم ہونا شروع ہوا اور یہ رفتہ رفتہ ریت میں دفن ہو گیا۔

گیزہ کا عظیم ہرم اس چھپے ہوئے دریا کے کنارے سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس ہرم کی تعمیر میں تقریباً 23 لاکھ پتھریلے بلاکس استعمال کیے گئے، جن میں ہر بلاک کا وزن ڈھائی سے 15 ٹن کے درمیان تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دریا کی موجودگی اس بات کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ اہرام مختلف مقامات پر کیوں تعمیر کیے گئے، کیونکہ وقت کے ساتھ دریا کا راستہ اور بہاؤ بدلتا رہا اور اسی بنیاد پر مصری فرعونوں نے اہرام کے لیے مختلف مقامات کا انتخاب کیا۔

Watch Live Public News