(ویب ڈیسک ) پینٹاگون کی جانب سے خفیہ یو ایف او(UFO) فائلیں جاری کر دیں گئی ہیں ۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پینٹاگون نے جمعہ کے روز خفیہ فائلوں کی پہلی کھیپ جاری کی، جن میں نامعلوم اُڑنے والی اشیاء (UFOs) کی رپورٹ شدہ جھلکیوں کی دستاویزات شامل ہیں، جن میں بعض 1940 کی دہائی تک پرانی ہیں۔ اس اقدام نے ایک بار پھر اس بحث کو ہوا دی ہے کہ آیا زمین کے علاوہ بھی کہیں خلائی مخلوق موجود ہے یا نہیں۔
ان فائلوں میں اُڑن طشتریوں اور ڈسک نما اشیاء کی رپورٹس شامل ہیں، جبکہ ایک ایسے گول نما جسم کی جھلک بھی بیان کی گئی ہے جو “لارڈ آف دی رنگز” کے کردار “آئی آف ساؤرون” سے مشابہ تھا۔ یہ فائلیں صرف پینٹاگون ہی نہیں بلکہ ایف بی آئی، محکمہ خارجہ اور ناسا سے بھی حاصل کی گئی ہیں۔
حالیہ برسوں میں اڑن طشتریوں( UFOs) میں دلچسپی دوبارہ بڑھ گئی ہے کیونکہ امریکی حکومت نے ایسی پراسرار فضائی اشیاء کی متعدد رپورٹس کی تحقیقات کیں جنہیں بظاہر مافوق الفطرت سمجھا گیا، جبکہ یہ خدشات بھی تھے کہ شاید مخالف ممالک انتہائی جدید ٹیکنالوجی آزما رہے ہوں۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایک بیان میں کہا “یہ فائلیں، جو طویل عرصے تک خفیہ درجہ بندی کے پیچھے چھپی رہیں، جائز قیاس آرائیوں کو جنم دیتی رہی ہیں — اور اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی عوام انہیں خود دیکھیں۔”
وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر 160 سے زائد فائلیں جاری کی گئیں۔ پینٹاگون UFOs کو باضابطہ طور پر “غیر شناخت شدہ غیر معمولی مظاہر” (Unidentified Anomalous Phenomena یا UAPs) کہتا ہے۔
دسمبر 1947 کی ایک فائل میں “اُڑنے والی ڈسکس” سے متعلق متعدد رپورٹس شامل ہیں۔
اس دستاویز میں کہا گیا “قابل مشاہدین کی جانب سے اس مظہر کے متعلق مسلسل اور حالیہ رپورٹس اب بھی ایئر میٹریل کمانڈ کے ہیڈکوارٹرز کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔”
اگلے سال نومبر کی ایک “ٹاپ سیکرٹ” ایئر فورس انٹیلی جنس رپورٹ میں “نامعلوم طیاروں” اور “ اُڑن طشتریوں” کے مشاہدات کی معلومات درج ہیں۔
اس فائل میں کہا گیا “کافی عرصے سے ہم اُڑن طشتریوں کی بار بار آنے والی رپورٹس پر تشویش رکھتے ہیں۔”
ایک اور فائل میں 2023 میں امریکہ میں پیش آنے والے “غیر شناخت شدہ غیر معمولی مظاہر” کے بارے میں سات وفاقی ملازمین کے بیانات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔
“سب سے زیادہ قابلِ توجہ”
فائل کی وضاحت میں کہا گیا “رپورٹ کرنے والوں کی ساکھ، اور خود ان واقعات کی ممکنہ غیر معمولی نوعیت — دونوں مل کر اس رپورٹ کو AARO کے موجودہ ریکارڈ میں سب سے زیادہ قابلِ توجہ بناتے ہیں۔”
ایک واقعے میں، وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تین الگ الگ گروپوں نے بتایا کہ انہوں نے آسمان میں نارنجی رنگ کے “گولے” دیکھے جو چھوٹے سرخ “گولے” خارج یا لانچ کر رہے تھے۔
ایک اور واقعے میں، دو وفاقی اسپیشل ایجنٹس نے “چمکتا ہوا نارنجی گولہ” دیکھا جو ایک چٹانی چوٹی کے قریب معلق تھا۔ اس کے ساتھ ایک خاکہ بھی شامل تھا جس میں سرخ نارنجی دائرہ دکھایا گیا جس کے نچلے حصے میں پیلی لکیر تھی۔
اس شے کو “لارڈ آف دی رنگز کے آئی آف ساؤرون جیسا، مگر بغیر پتلی کے” قرار دیا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں امریکی وفاقی اداروں کو اڑن طشتریوں( UFOs) اور خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری فائلوں کی شناخت اور انہیں جاری کرنے کا حکم دیا تھا، کہتے ہوئے کہ یہ اقدام “عوام کی زبردست دلچسپی” کے باعث کیا جا رہا ہے۔
اسی روز ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سابق صدر باراک اوباما نے ایک وائرل پوڈکاسٹ میں ماورائے زمین زندگی کے وجود سے متعلق “خفیہ” معلومات ظاہر کی تھیں۔
اوباما نے میزبان برائن ٹائلر کوہن سے گفتگو میں کہا تھا “وہ حقیقی ہیں، لیکن میں نے انہیں نہیں دیکھا، اور انہیں ایریا 51 میں چھپا کر نہیں رکھا گیا۔”
ایریا 51 نیواڈا میں واقع ایک انتہائی خفیہ امریکی فوجی اڈہ ہے جو اڑن طشتری( UFO) سازشی نظریات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ نے اس پر صحافیوں سے کہا “اوباما نے خفیہ معلومات دی ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔”
تاہم انہوں نے اپنے ذاتی خیالات کے بارے میں کہا “میں نہیں جانتا کہ وہ حقیقی ہیں یا نہیں۔”
اب تک زمین سے باہر ذہین زندگی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
مارچ 2024 میں پینٹاگون نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ UAPs کے خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور زیادہ تر مشکوک مشاہدات دراصل موسمی غباروں، جاسوس طیاروں، سیٹلائٹس یا دیگر معمول کی سرگرمیوں پر مشتمل تھے۔