(ویب ڈیسک) سنگاپور کے محققین کی ایک ٹیم نے ایک منفرد ننھا ڈائیونگ سوٹ تیار کیا ہے، جو کاکروچ کو تین گھنٹے تک پانی کے اندر سانس لینے کے قابل بناتا ہے۔
اگرچہ زیادہ تر لوگ کاکروچ کو دیکھتے ہی اسے مارنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن سنگاپور کی نان یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے اسکول آف مکینیکل اینڈ ایرو اسپیس انجینئرنگ کے سائنس دان برسوں سے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ مڈغاسکر ہِسنگ کاکروچ پانی کے اندر بھی مؤثر انداز میں کام کر سکے۔
پروفیسر ہیروتاکا ساتو اور ان کی ٹیم پہلے ہی یہ ثابت کر چکی تھی کہ کاکروچ کے حسی اعضا پر الیکٹروڈ نصب کرکے اسے دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ کیڑے ایک طرح کے "سائبرگ" ڈرون میں تبدیل ہو گئے، جو قدرتی آفات کے بعد ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش جیسے امدادی کام انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم ایک بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ کاکروچ پانی میں مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتا تھا، جس کی وجہ سے سیلاب زدہ علاقوں میں اس کی افادیت محدود تھی۔
اسی مسئلے کے حل کے لیے محققین نے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے ایک خصوصی ڈائیونگ سوٹ تیار کیا، جو کاکروچ کو طویل عرصے تک سانس لینے کے لیے آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ رال (ریزن) سے تیار کردہ یہ سوٹ آکسیجن پیدا کرکے اسے کاکروچ کے سانس لینے والے سوراخوں (اسپائریکلز) تک پہنچاتا ہے، جس سے وہ تقریباً تین گھنٹے تک پانی کے اندر سرگرم رہ سکتا ہے۔

اس ڈائیونگ سوٹ میں روایتی آکسیجن سلنڈر استعمال نہیں کیا گیا، بلکہ اس میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور مینگنیز ڈائی آکسائیڈ کا ایسا امتزاج موجود ہے جو کیمیائی ردِعمل کے ذریعے آکسیجن پیدا کرتا ہے، جسے کاکروچ آسانی سے جذب کر لیتا ہے۔
آزمائشی مراحل میں یہ سوٹ انتہائی کامیاب ثابت ہوا۔ کاکروچ پانی کے اندر تقریباً 78.4 ملی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کرتا رہا، جو خشکی پر اس کی اوسط رفتار سے صرف 10 ملی میٹر فی سیکنڈ کم ہے۔
پروفیسر ہیروتاکا ساتو کا کہنا ہے کہ "پانی کے اندر حرکت کرنے کی صلاحیت شامل کرکے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سائبرگ کیڑے تلاش اور امدادی کارروائیوں میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔"

یہ تحقیق حال ہی میں سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز (Nature Communications) میں شائع ہوئی ہے۔
پروفیسر ساتو کی ٹیم کے تیار کردہ سائبرگ کیڑوں نے 2025 میں میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد ہونے والے حقیقی امدادی مشن "آپریشن لائن ہارٹ" میں بھی حصہ لیا۔ تاہم محققین کے عزائم اس سے کہیں آگے ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ مستقبل میں یہی ننھے سائبرگ کیڑے خصوصی ڈائیونگ سوٹ پہن کر سیارہ مریخ کی سطح کی کھوج میں بھی انسانوں کی مدد کریں۔