(ویب ڈیسک) امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ 23 ستمبر تک تمام ایرانی ایئرلائنز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہوابازی اور ایئر سروسز فراہم کرنے والے اداروں پر ثانوی پابندیوں (Secondary Sanctions) کے نفاذ کے ذریعے یہ اقدام عمل میں لایا جا رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ جب بھی کوئی ایرانی ایئرلائن کا جہاز کسی ایئرپورٹ پر اترے گا تو کوئی بھی ادارہ اسے ایندھن (فیول) فراہم نہیں کر سکے گا۔
انہوں نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ایئرپورٹ نے ایرانی جہازوں کو ایندھن، لینڈنگ سروسز یا ان کے لیے ٹکٹوں کی فروخت جیسی سہولیات فراہم کیں تو متعلقہ سروس فراہم کنندہ ادارے کو فوری طور پر امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام (Dollar System) سے بے دخل کر دیا جائے گا۔
امریکی وزیر خزانہ نے چینی نائب وزیراعظم ہی لائفینگ (He Lifeng) کے ساتھ اتوار کی شب ہونے والے مذاکرات کے اختتام کے بعد بتایا کہ چینی حکام ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ کی مہم میں پوری طرح رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کی تعمیل کے حوالے سے پیپلز بینک آف چائنا کے گورنر پین گونگ شینگ (Pan Gongsheng) سمیت چینی مالیاتی حکام کے ساتھ بھی مثبت بات چیت ہوئی ہے۔