صدر  ٹرمپ کی ایران میں محدود فوجی حملوں کی تصدیق

صدر  ٹرمپ کی ایران میں محدود فوجی حملوں کی تصدیق
کیپشن: صدر  ٹرمپ کی ایران میں محدود فوجی حملوں کی تصدیق

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں محدود فوجی حملے جاری رکھنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فورسز نے ایرانی فضائی دفاعی تنصیب کو چند منٹوں میں تباہ کردیا۔

سی این این کے مطابق ایران کے جزیرے قشم کے قریب دھماکوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے پہلے تبصرے سے گریز کیا، تاہم بعد میں محدود فوجی کارروائیوں کا اعتراف کرلیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز نے ایران کا ایک چھوٹا طیارہ شکن دفاعی نظام صرف 5 سے 15 منٹ میں تباہ کردیا۔

امریکی صدر نے ایران میں امریکی کردار کے حوالے سے کہا کہ واشنگٹن وہاں قابض کا کردار بھی اختیار کرسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ حملے مکمل جنگ کی بحالی کا اشارہ نہیں ہیں۔

یہ کارروائی جزیرہ قشم کے علاقے سوزا میں دھماکوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل 2 نومبر کو بھی امریکی فورسز نے جزیرے پر حملہ کیا تھا، جس میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز امریکی کنٹرول میں ہے اور اس گزرگاہ سے ریکارڈ مقدار میں تیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر تزویراتی اختیار اب بھی تہران کے پاس ہے اور اپنی شرائط پوری ہونے تک اسے دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔

ٹرمپ نے فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

ادھر امریکی حکام نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو ایران نواز یمنی حوثی گروپ کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔

 

Watch Live Public News