(ویب ڈیسک)امریکی کانگریس کے انتہائی اہم مڈ ٹرم انتخابات کے موقع پر رائٹرز اور اپسوس کے تازہ ترین ملک گیر سروے نے ریپبلکن پارٹی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ سروے کے مطابق امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد اس الیکشن کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت اور مہنگائی کے خلاف غصہ نکالنے کے ذریعے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی تاریخی گراوٹ:
سروے میں شامل صرف 32 فیصد شرکا نے وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کو سراہا، جو کہ دو ہفتے قبل ریکارڈ کی گئی ان کی تاریخ کی کم ترین سطح (31 فیصد) کے بالکل قریب ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ کا نام براہِ راست بیلٹ پیپر پر موجود نہیں ہے، مگر ان کی پالیسیاں ان انتخابات پر پوری طرح اثر انداز ہو رہی ہیں۔
جینرک بیلٹ میں ڈیموکریٹس کو برتری:

جب ووٹرز سے پوچھا گیا کہ وہ کانگریس میں کس پارٹی کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو 46 فیصد نے ڈیموکریٹس جبکہ 38 فیصد نے ریپبلکنز کو ترجیح دی، جس سے ڈیموکریٹس کو 8 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔
تاہم یہ برتری ایک ہفتہ قبل کے سروے کے مقابلے میں 3 پوائنٹس کم ہوئی ہے جہاں ڈیموکریٹس کو 11 پوائنٹس کی لیڈ حاصل تھی۔
مہنگائی اور ایران جنگ سب سے بڑا انتخابی مسئلہ:
سروے کے مطابق 78 فیصد ووٹرز نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور 'کاسٹ آف لیونگ' کو ووٹنگ کے فیصلے کے لیے سب سے اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔
فروری میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے ایندھن اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ووٹرز کو شدید متاثر کیا ہے؛ اس مسئلے پر قابو پانے کے معاملے میں ووٹرز نے ریپبلکنز (32 فیصد) کے مقابلے ڈیموکریٹس (43 فیصد) پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا۔
آزاد ووٹرز کا رجحان اور ووٹر ٹرن آؤٹ کا جوش:
رجسٹرڈ غیر جانبدار (انڈیپنڈنٹ) ووٹرز میں سے 50 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ کانگریس کے انتخابات میں اپنا ووٹ دراصل صدر ٹرمپ کی مخالفت میں ڈالیں گے۔
ووٹرز کے جوش و خروش کے معاملے میں بھی ڈیموکریٹس آگے ہیں، جہاں ان کے 49 فیصد حامی ووٹنگ کے لیے انتہائی پرجوش ہیں جبکہ ریپبلکنز میں یہ شرح صرف 33 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ سروے امریکا بھر کے 1,765 بالغ شہریوں کی آن لائن رائے پر مشتمل ہے جس میں غلطی کا امکان (Margin of Error) صرف 2 فیصد ہے۔