(ویب ڈیسک) امریکا میں انتہائی اہم اور فیصلہ کن مڈ ٹرم انتخابات (Midterm Elections) کے لیے پولنگ کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ یہ انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے بقیہ دو سالہ دورِ اقتدار، ان کے قانون سازی کے اختیارات اور امریکی پالیسیوں کے مستقبل کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
پولنگ کا مرحلہ وار آغاز:
مشرقی ساحلی وقت (US East Coast) کے مطابق صبح 6 بجے متعدد اہم ریاستوں میں پولنگ اسٹیشنز باقاعدہ طور پر کھل گئے ہیں۔
ووٹنگ کا آغاز نیویارک، نیوجرسی، ورجینیا، مین اور کینٹکی میں ہو چکا ہے، جبکہ ریاست ورمونٹ میں پولنگ اس سے بھی ایک گھنٹہ قبل شروع کر دی گئی تھی۔
نارتھ کیرولائنا، اوہائیو اور ویسٹ ورجینیا سمیت دیگر ریاستوں میں بھی ووٹرز کے لیے پولنگ کے دروازے کھولے جا رہے ہیں، اور دن چڑھنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے تمام ٹائم زونز میں ووٹنگ کا عمل مکمل طور پر متحرک ہو جائے گا۔
ایوان کا توازن اور ٹرمپ کی صدارت کا امتحان:
ان اہم مڈ ٹرم انتخابات میں امریکی ووٹرز امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں (ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ) کے امیدواروں کے ساتھ ساتھ مختلف اہم ریاستوں کے گورنرز کا انتخاب کر رہے ہیں۔
ان انتخابات کے نتائج طے کریں گے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی صدارت کے آخری دو برسوں میں قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور پالیسیوں کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ میں کتنی کھلی چھوٹ ملے گی یا انہیں اپوزیشن کی جانب سے سخت قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عالمی اثرات:
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی کانگریس کے اختیارات کا پلڑا کس کے حق میں جھکتا ہے، اس کا اثر نہ صرف امریکا کے داخلی معاملات پر پڑے گا بلکہ عالمی معیشت، دفاعی معاہدوں اور بین الاقوامی تنازعات کے مستقبل پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔