ویب ڈیسک: نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار ایوی ایشن ایگزیکٹو ایڈرین ہیملٹن مینز نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔
پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 2 نومبر کو ان کی تقرری کی، جس کے بعد انہوں نے ایئر وائس مارشل عامر حیات کی جگہ ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ عامر حیات تقریباً ساڑھے چار سال تک پی آئی اے کے سربراہ رہے اور اس دوران ایئرلائن کی نجکاری کے عمل کی تیاریوں کی نگرانی کی۔
ایڈرین ہیملٹن مینز کو عالمی ہوا بازی کی صنعت میں تین دہائیوں سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1997 میں ایئر نیوزی لینڈ سے کیا اور بعد ازاں ساؤتھ افریقن ایئرلائنز، انڈیگو، ورجن آسٹریلیا اور انڈونیشیا کی منڈالا ایئرلائنز میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
وہ 2012 سے 2016 تک افریقی ایئرلائن flyafrica.com کے بانی چیف ایگزیکٹو رہے، جبکہ 2020 سے 2024 تک قازقستان کی فلائی آریستان کے صدر اور سی ای او کے طور پر کام کیا۔ جولائی 2024 میں انہوں نے عمان کی سلام ایئر کی قیادت سنبھالی اور 2026 تک اس عہدے پر فائز رہے۔
ان کا زیادہ تر تجربہ کم لاگت والی فضائی کمپنیوں کی قیادت کا ہے۔ فلائی آریستان میں ان کے دور کے دوران 2020 سے 2023 تک ایئرلائن کی آمدنی میں 384 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اس کے بیڑے میں طیاروں کی تعداد 19 تک پہنچ گئی۔
پی آئی اے کے نئے سی ای او کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟
ایڈرین ہیملٹن مینز ایسے وقت میں پی آئی اے کے سربراہ بنے ہیں جب ایئرلائن طویل عرصے کے مالی خسارے اور آپریشنل مشکلات کے بعد نجی انتظام میں آ چکی ہے۔
23 دسمبر 2025 کو عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی لگائی، جبکہ 29 جون 2026 کو ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول نئے مالکان کو منتقل ہوگیا۔
نئے مالکان نے پہلے سال میں پی آئی اے کو منافع بخش بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ آئندہ آٹھ سال میں طیاروں کی تعداد 19 سے بڑھا کر 64 کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی پروازوں میں توسیع کا منصوبہ
پی آئی اے اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ ایئرلائن کو ناروے کی نورس اٹلانٹک ایئرویز سے لیز پر حاصل کیا گیا پہلا بوئنگ 787 ڈریم لائنر موصول ہو چکا ہے، جبکہ بوئنگ کے ساتھ مزید 16 ڈریم لائنر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بھی مذاکرات جاری ہیں۔
تاہم نئے سی ای او کے سامنے ایک اہم چیلنج یہ ہوگا کہ وہ کم لاگت والی ایئرلائنز میں اپنے تجربے کو پی آئی اے جیسے مکمل سروس نیٹ ورک میں کس طرح بروئے کار لاتے ہیں، جہاں ملکی و بین الاقوامی روٹس، وسیع انتظامی ڈھانچے اور بڑے آپریشنل نظام کو سنبھالنا بھی ان کی ذمہ داری ہوگی۔