(ویب ڈیسک) ملازمت کے لیے انٹرویو کے دوران امیدوار عموماً اپنی ذاتی صلاحیت اور ذہانت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ایک سافٹ ویئر ڈیولپر نے کوڈنگ ٹیسٹ کے دوران پینل سے مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز استعمال کرنے کی اجازت مانگ کر سب کو دنگ کر دیا۔
ایک نجی ادارے میں سافٹ ویئر ڈیولپر کی پوزیشن کے لیے ہونے والے انٹرویو میں امیدوار نے کوڈنگ اسیسمنٹ (Coding Assessment) کے دوران چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT)، کلاڈ (Claude) اور کرسر (Cursor) جیسے ایڈوانسڈ اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی اجازت طلب کی۔
امیدوار نے اپنی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں جب چند سیکنڈز کے اندر بہترین کوڈ تیار ہو سکتا ہے تو کسی مسئلے کو خود سے حل کرنے میں 45 منٹ ضائع کرنا دانشمندی نہیں۔
انٹرویو لینے والے پینل نے جب سمجھایا کہ اس ٹیسٹ کا مقصد اس کی ذاتی مسائل حل کرنے کی صلاحیت (Problem-Solving Skill) اور بنیادی پروگرامنگ کو پرکھنا ہے، تو امیدوار نے اس دلیل کو ماننے سے انکار کر دیا۔
امیدوار کا اصرار تھا کہ حقیقی دفتری ماحول میں تمام ڈیولپرز اے آئی ٹولز کی مدد لیتے ہیں، اس لیے عملی میدان کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹرویو میں بھی ان ٹیکنالوجیز پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ یہاں تک کہ اس نے دیگر تکنیکی سوالات کا جواب دینے کے لیے بھی اے آئی کے استعمال پر ہی زور دیا۔
کمپنی کی ریکروٹمنٹ ٹیم نے مذکورہ امیدوار کو ای میل کے ذریعے ملازمت نہ دینے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔
کمپنی نے اپنے جوابی پیغام میں امیدوار کو ایک مشورہ بھی دیا کہ جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت اچھی بات ہے لیکن اسے اے آئی پر اندھا انحصار کرنے کے بجائے اپنی بنیادی پروگرامنگ اور پرابلم سالونگ اسکلز کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔