(ویب ڈیسک) ایس ڈی پی آئی کی29ویں پائیدار ترقی کانفرنس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال ،ڈپٹی چیٗرمین منصوبہ بندی کانفرنس میں شریک ہوئے۔موسمی تغیرات اور ماحولیاتی رابطہ کاری سے متعلق وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک مہمان خصوصی تھے۔
احسن اقبال کا خطاب:
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے خطاب میں کہا کہ عالمی سیاسی اور معاشی تبدیلیاں ترقیاتی ترجیحات پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہیں، عالمی تنازعات کے اثرات توانائی، خوراک، تجارت اور سرمایہ کاری تک پھیل رہے ہیں، ہزاروں کلومیٹر دور ہونے والا تنازع بھی پاکستانی کسان کی کھاد اور عام خاندان کے کھانے کی قیمت بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سیاست اب ہر گھر کے بجٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے، عالمی سپلائی چینز اب صرف لاگت نہیں بلکہ سلامتی اور سیاسی تعلقات کی بنیاد پر بھی تشکیل پا رہی ہیں، ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی منڈیوں، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی سے جڑے رہتے ہوئے معاشی خودمختاری برقرار رکھنا بڑا چیلنج ہے، پاکستان کا مؤقف تعمیری تعلقات، متنوع شراکت داری اور علاقائی روابط کے فروغ پر مبنی ہے، بدلتے عالمی حالات میں عوام کو معاشی غیر یقینی سے تحفظ دینا اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔
مصدق ملک کا ایس ڈی پی آئی کی تقریب سے خطاب:
مصدق ملک نے خطاب میں کہا کہ ترقی کو صرف معاشی ترقی کے زاویے سے نہیں بلکہ انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے،دنیا میں طاقت کے زور پر فیصلے کرنے کا رجحان تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے،پہلی اور دوسری جنگِ عظیم سے سبق نہ سیکھنا تاریخ کی غلطیوں کو دہرانے کے مترادف ہے، پاکستان جیسے چھوٹے ملک کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پائیدار ترقی کیسے ممکن بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی ترقی کا کیا فائدہ جو ہر دو چار سال بعد سیلاب کی نذر ہو جائے، ترقیاتی منصوبوں میں موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلاب کے خطرات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے،سیلاب کی تباہ کاریوں کا سب سے زیادہ بوجھ ہمیشہ غریب اور کمزور طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے،فصلیں تباہ ہونے کے بعد کسانوں کے پاس دوبارہ بیج اور کھاد خریدنے کے وسائل بھی نہیں ہوتے،قدرتی آفات کے نقصانات کا بوجھ ہر مرتبہ غریب عوام پر ڈالنا ناانصافی ہے۔
مصدق ملک نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی ملکیت اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد مقامی آبادی کو بھی ملنے چاہئیں،پائیدار ترقی وہی ہے جو موسمیاتی آفات کا مقابلہ کر سکے اور عام آدمی کے لیے فائدہ مند ہو۔
ڈاکٹر عابد سلہری کا خطاب:
ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کا کردار ناگزیر ہے، حکومتیں نجی شعبے کے تعاون کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتیں،ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں گرین انرجی اور ماحولیاتی معیارات پر عملدرآمد کے حوالے سے نئی مثالیں قائم کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعتوں کو عالمی ماحولیاتی معیارات اپنانے اور ماحول دوست توانائی کی جانب منتقل ہونے کی ضرورت ہے، ماحول دوست توانائی استعمال کرنے والی کمپنیاں روایتی توانائی پر انحصار کرنے والی کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ منافع کما رہی ہیں۔
ایس ڈی پی آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرپرسن شفقت کاکا خیل کا خطاب:
سابق سفیر شفقت کاکا خیل نے خطاب میں کہا کہ کانفرنس 1995سے پائیدار ترقی پر بات چیت کا پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے ، جغرافیائی ،سیاسی کشیدگی اورمعاشی غیر یقینی صورتحال حکومتوں اور ترقیاتی اداروں کیلئے نیا چیلنج ہے،موسمی تغیرات اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی حکومتوں اور ترقیاتی اداروں کیلئے نئے چیلنج ہیں،ہمیں اس صورتحال میں ترقی سے متعلق منصوبہ بندی اور عملدرآمد کا ازسرنو تعین کرنا ہو گا ۔