(ویب ڈیسک) دنیا کا چکر لگانے کے لیے ہوائی جہاز، ٹرین یا گاڑیوں کا استعمال تو عام بات ہے، لیکن برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک باہمت شخص کارل بشبائی (Karl Bushby) نے تاریخ رقم کرتے ہوئے مسلسل 28 سال پیدل چل کر دنیا کے گرد اپنا یادگار اور صبر آزما سفر مکمل کر لیا ہے۔
کارل بشبائی نے اس سفر کا آغاز 1998 میں جنوبی امریکی ملک چلی سے کیا تھا، اس وقت ان کی عمر محض 29 سال تھی۔یہ سفر 28 سال بعد انگلینڈ کے علاقے ہل (Hull) میں واقع ان کی والدہ کے گھر پہنچ کر مکمل ہوا، جہاں پہنچنے پر ان کی عمر 57 برس ہو چکی ہے۔
وہ مجموعی طور پر 10 ہزار 200 سے زائد دنوں تک سفر میں رہے اور تخمینے کے مطابق انہوں نے لگ بھگ ساڑھے 7 کروڑ قدم چل کر دنیا کے تمام براعظموں کا چکر لگایا۔ابتدا میں ان کا خیال تھا کہ یہ سفر 5 سال میں ختم ہو جائے گا، لیکن مشکلات اور پیچیدگیوں کے باعث یہ بڑھتے بڑھتے تقریباً تین دہائیوں تک پھیل گیا۔
اپنے طویل سفر کے دوران کارل گھنے بارانی جنگلات، لق و دق صحراؤں اور منجمد برفانی خطوں سے گزرے۔انہوں نے بحر الکاہل اور بحر آرکٹک کے درمیان جمی ہوئی آبنائے بیرنگ (Bering Strait) کی سمندری برف سے پیدل راستہ بنایا اور انگلش چینل کو بھی تیر کر عبور کیا۔
جب روس اور ایران کے جغرافیائی تنازعات کے باعث زمینی راستہ بند ہوا، تو انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی جھیل 'بحیرہ قزوین' (Caspian Sea) کو لگاتار 31 دن میں تیر کر پار کیا۔
انہیں سب سے زیادہ وقت روس کو عبور کرنے میں لگا جہاں پورے 10 سال بیت گئے۔روس کے شدید سرد موسم کے باعث وہ سال میں محض چند ماہ ہی سفر کر پاتے تھے، جبکہ بحیرہ قزوین غیر قانونی طور پر پار کرنے پر انہیں گرفتاری اور جیل کا سامنا کرنا پڑا اور بعد ازاں ملک سے بے دخل بھی کیا گیا، جس میں دفتری اور سفارتی رکاوٹوں نے ان کے وقت کو مزید طویل کر دیا۔
سفر کے کٹھن جسمانی مراحل کے ساتھ ساتھ کارل بشبائی کا یہ سفر جذباتی آزمائشوں سے بھی بھرا رہا؛ انہوں نے بتایا کہ اس 28 سالہ مہم کے دوران وہ دو مرتبہ محبت کے بندھن میں بندھے، لیکن دونوں بار ان کا دل ٹوٹا اور وہ اکیلے ہی اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہے۔