(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ نئے فارمولے کے تحت پیٹرول 15 روپے لیٹر سستا ہو سکتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا وزیراعظم کی ترجیح ہے، آئل ریفائنریز کے ساتھ کل نشست میں تمام امور پرگفتگو ہوگی، آئل ریفائنریز کے تعاون سے عوام کو 15 روپے فی لیٹر سستا فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ خطےکی صورتحال کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور انشورنس کے خرچے بڑھ چکے ہیں، چند دنوں میں ہوئے واقعات کی وجہ سے عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ کروڑوں افراد پیٹرول ریلیف سے مستفید ہو رہے ہیں، ریفائنریز کے ساتھ مل کر ڈیزل کے لیے کروڈ بیسڈ فارمولا طےکیا تھا، جمعےکو پیٹرول کی قیمتوں میں آنے والا 15 روپے اضافہ روکا گیا، ریفائنریز نے پیٹرول کی قیمت کنٹرول میں رکھنے کے لیے حکومت کا ساتھ دیا، ریفائنریز نے پیٹرول کی قیمت میں 15 ارب روپےکا لوڈ خود اٹھانےکا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم پر پریمیئم 10 سے 20 ڈالرفی بیرل بڑھ گیا ہے، ڈیزل پر خام تیل کا فارمولہ لاگو ہے، مقامی ریفائنریز 30 فیصد پیٹرول بناتی ہیں، ریفائنریز کے مشکور ہیں کہ انہوں نے حکومت سے تعاون کیا، ریفائنریوں نے منافع بھی بہت کمایا۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ عوام نے تیل کی قیمت کے لیے بہت مشکلات برداشت کیں، حکومت کسی سے زیادتی نہیں کرے گی، عوام کا تحفط یقینی بنائےگی۔ فیول قیمتوں میں ڈی ریگولیشن کا سب سے بڑا حامی ہوں۔
وزیراعظم کی سخت ہدایت پر 15 روپے فی لیٹر قیمت کو نہیں بڑھنے دیا گیا ،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کا پہلے دن سے وژن تھا کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے، دنیا بھر کی معیشت جنگوں سے متاثر ہے، پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہوئی، مشکل حالات کے باوجود پاکستان کے معاشی انڈیکیٹرز مثبت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موٹرسائیکل، رکشوں، چھوٹی گاڑی مالکان کو فیول ریلیف کا سلسلہ جاری رہےگا، اب تک پیٹرول کی مد میں27 ارب روپےکا ریلیف دے چکے ہیں، یہ بہت بڑا ریلیف ہے، اسکیم کامیابی سے جاری ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ امن کی کوششیں بھی جاری ہیں، امن آئےگا تو حالات معمول کی طرف لوٹیں گے، سبسڈی جاری ہے اور جو قیمت بڑھنی تھی وہ نہیں بڑھنے دی گئی۔