(ویب ڈیسک) چیٹ جی پی ٹی بنانے والی معروف کمپنی ' اوپن اے آئی' نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ریاضی کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور 90 سال پرانے 'نیویئر اسٹوکس' (Navier–Stokes) مسئلے کو اپنے جدید اے آئی ماڈل اور 10 ہزار ایجنٹس کی مدد سے صرف 88 گھنٹوں میں حل کر لیا ہے۔ دوسری جانب ایک نامور ریاضی دان نے اس دعوے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اوپن اے آئی نے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ اس نے ایک نیا سسٹم تیار کیا جس میں خودکار اے آئی ایجنٹس کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان ایجنٹس کے پاس انٹرنیٹ ڈیٹا دیکھنے اور کوڈ چلانے کی صلاحیت موجود تھی، جن میں سے تقریباً 10 ہزار ایجنٹس پر مشتمل گروپ نے 1 ستمبر کو کام شروع کیا اور ہفتہ 5 ستمبر کو محض 88 گھنٹوں کی مسلسل کاوش کے بعد اس کا حل تلاش کر لیا۔
نیویئر اسٹوکس کیا ہے؟
یہ مسئلہ سیال مادوں (Fluids) اور ہوا کی حرکت سے متعلق ہے، جسے میساچوسٹس کے 'کلے میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ' نے سال 2000 میں دنیا کے 7 مشکل ترین ملینیم پرائز پرابلمز میں شامل کیا تھا اور اسے حل کرنے والے کے لیے 10 لاکھ امریکی ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔
نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر ٹرسٹن بک ماسٹر نے اوپن اے آئی کے حل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حریف کمپنی اینتھروپک کے ریاضی دان لیونٹ الپوگے کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر پہلے سے کام کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کا طریقہ کار ان کی اپنی نجی ریسرچ سے حیرت انگیز طور پر مشابہت رکھتا ہے، جس پر انہیں شک ہے کہ کہیں اوپن اے آئی نے ان کے کووڈیکس (Codex) سیشنز یا ڈیٹا تک رسائی تو حاصل نہیں کی۔
اوپن اے آئی کی وضاحت:
اوپن اے آئی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ان ریاضی دانوں کے کام کی افواہیں سننے کے بعد 1 ستمبر کو آزادانہ طور پر اس پر کام شروع کیا۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ انہوں نے کسی کا ذاتی ڈیٹا استعمال نہیں کیا، تاہم اس بات کو مکمل رد نہیں کیا جا سکتا کہ صارفین کے عمومی ڈیٹا نے ماڈل کو بہتر بنانے میں کوئی غیر ارادی مدد دی ہو۔
فی الحال کلے میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے اوپن اے آئی کے اس مجوزہ حل پر کوئی باضابطہ تصدیق یا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اوپن اے آئی کا پیش کردہ ریاضیاتی ثبوت درست تسلیم کر لیا جاتا ہے تو یہ مصنوعی ذہانت کی تاریخ کا سب سے بڑا سائنسی معرکہ ثابت ہوگا۔