(ویب ڈیسک)امریکا کے ایک ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ نے ایسے مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس مائیکرو ڈرونز تیار کرنے پر کام شروع کر رکھا ہے جو فضا میں اڑتے ہوئے مچھروں اور دیگر حشرات کو نشانہ بنا کر مار سکتے ہیں۔
ٹورنیول (Tornyol) نامی امریکی اسٹارٹ اپ، جسے وائے کومبینیٹر (Y Combinator) کی معاونت حاصل ہے، ایسے مائیکرو ڈرونز تیار کر رہا ہے جو مچھروں کے خاتمے کی لاگت کو موجودہ طریقوں کے مقابلے میں 100 گنا تک کم کر سکتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان ننھے ڈرونز کے غول شہری علاقوں میں مچھروں کا تعاقب کرکے انہیں ختم کرسکیں گے، جس سے کیمیائی اسپرے اور دیگر مہنگے یا ماحول کے لیے نقصان دہ طریقوں پر انحصار کم ہو جائے گا۔
Extremely excited to announce our first air-to-air kill of a flying moth by an autonomous micro-drone. This is a big step towards completely eradicating mosquitoes. pic.twitter.com/UhtNqwXCQI
— Alex Toussaint (@alextoussss) July 14, 2026
14 جولائی کو ٹورنیول کے شریک بانی الیکس توسانٹ (Alex Toussaint) نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں کمپنی کے ڈرون کو پہلی مرتبہ فضا میں اڑتے ہوئے ایک کیڑے کو نشانہ بنا کر گراتے ہوئے دکھایا گیا۔ اگرچہ تجربے میں مچھر کے بجائے ایک پتنگا (Moth) استعمال کیا گیا تھا اور آزمائش محدود ماحول میں کی گئی، تاہم کمپنی کے مطابق یہ فضا میں اڑنے والے حشرات کو شناخت کرکے ہدف بنانے والی ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
کمپنی کا ہدف صرف 40 گرام وزنی ایسے ڈرونز تیار کرنا ہے جو اسمارٹ فون کے مائیکروفونز، الٹراسونک سینسرز اور خصوصی سافٹ ویئر کی مدد سے مچھروں کا سراغ لگا سکیں۔ یہ ڈرونز الٹراسونک لہریں خارج کرتے ہیں اور واپس آنے والی بازگشت کا تجزیہ کرتے ہیں۔ چونکہ مچھر کے پروں کی حرکت ایک منفرد ڈوپلر آواز پیدا کرتی ہے، اس لیے یہ ڈرون نظریاتی طور پر مچھروں کو دیگر اڑنے والے حشرات سے الگ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ٹورنیول کے انجینئرز الیکس توسانٹ اور کلووس پیڈالو (Clovis Piedallu) کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے مائیکرو ڈرونز کے غول پورے شہری علاقوں سے مچھروں کا خاتمہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف 10 ڈرونز ایک مربع کلومیٹر کے علاقے کو مچھروں سے پاک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔