ویب ڈیسک: کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر کی جانب سے 2023 میں درج یو اے پی اے (UAPA) کے تحت ایک ایف آئی آر سے منسلک کارروائی میں وادی کے چھ مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے آن لائن انتہا پسندی کے الزامات کی آڑ میں عام کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ چھاپے کشمیری عوام کے خلاف بھارت کی منظم ریاستی کارروائیوں اور اجتماعی سزا کی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ 2019 سے 2023 کے دوران صرف جموں و کشمیر میں یو اے پی اے (UAPA) کے تحت 3,662 افراد گرفتار، جو بھارت بھر میں ہونے والی 10,440 گرفتاریوں کا تقریباً 35 فیصد ہیں۔ یو اے پی اے کے تحت گرفتار ہزاروں افراد میں سے صرف 23 کو سزا سنائی گئی، جبکہ شرحِ سزا ایک فیصد سے بھی کم رہی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں گرفتاری ہی سزا بن چکی ہے، مقدمات برسوں تک زیرِ التوا رہتے ہیں اور متاثرہ خاندان مسلسل ذہنی، معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہیں۔ 2026 کے ابتدائی دس ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 12,000 سے زائد محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران 4,700 سے زیادہ کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا۔ بھارتی فورسز علی الصبح کشمیریوں کے گھروں پر چھاپے مارتی ہیں، موبائل فونز اور لیپ ٹاپ ضبط کرتی ہیں اور سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر نوجوانوں کو دہشت گردی کےجھوٹے الزامات میں گرفتار کرتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش، املاک کی ضبطی اور یو اے پی اے (UAPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت بار بار گرفتاریاں بھارتی ریاستی جبر کے مستقل ہتھکنڈے بن چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارت یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے قوانین کو صحافیوں، طلبہ اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کی آواز دبانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کو دہشت گردی سے جوڑ کر کشمیری نوجوانوں کو مسلسل خوف اور ریاستی نگرانی کے ماحول میں رکھا جا رہا ہے۔ بھارت ان کارروائیوں کو انسدادِ دہشت گردی کا نام دے رہا ہے، جبکہ کشمیری عوام مسلسل گرفتاریوں، چھاپوں اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سامنا کر رہے ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں چھ نئے مقامات پر چھاپے انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ کشمیری عوام کے خلاف بھارتی جبر اور اجتماعی سزا کی پالیسی کا ایک اور مظہر ہیں۔ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار عالمی اداروں کی خاموشی مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کئی سوالات اٹھاتی ہے۔