بھارتی ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ

بھارتی ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ
کیپشن: بھارتی ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ

ویب ڈیسک: انسانی حقوق کی تنظیموں ریڈریس (REDRESS) اور ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر (OMCT) سے منسوب مشترکہ شکایت میں بھارتی ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات اور بین الاقوامی نگرانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2017 سے ستمبر 2026 تک ریاست میں پولیس انکاؤنٹرز کے دوران 314 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 49 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ نگرانی رپورٹ میں مسلمانوں کی مبینہ من مانی گرفتاریوں، حراست، تشدد، حملوں اور مکانات و مذہبی عمارتوں کی مسماری کے واقعات بھی درج ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاست کے 27 اضلاع میں نام نہاد ہاف انکاؤنٹرز کے دوران کم از کم 70 مسلمانوں کو گولی مار کر زخمی کیا گیا، جبکہ مسلمانوں کے کم از کم 34 مکانات، کاروباری مقامات یا مذہبی عمارتیں مسمار کی گئیں۔ اس کے علاوہ نفرت انگیز تقاریر کے 21 واقعات اور مسلمانوں پر حملوں کے متعدد واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

شکایت میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں، پولیس حراست میں تشدد، مذہبی امتیاز اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ذمہ داروں کے احتساب پر زور دیا گیا ہے۔

دونوں تنظیموں سے منسوب سفارشات میں اقوام متحدہ کے تحت آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے کے قیام، ممکنہ قانونی کارروائیوں کے لیے شواہد محفوظ رکھنے اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی نگرانی کے لیے خصوصی نمائندے کی تقرری کی تجویز شامل ہے۔

بھارت کی 2011 کی مردم شماری کے مطابق، اتر پردیش میں مسلمانوں کی آبادی 3 کروڑ 84 لاکھ سے زائد تھی، جو ریاست کی مجموعی آبادی کا 19.26 فیصد بنتی تھی۔
الزامات اور حقائق الگ کریںخبر کا آغاز زیادہ مؤثر بنائیںرپورٹ کی زبان محتاط کریں

Watch Live Public News