دہشت گردی کے خلاف ایک ملک میں دو خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں: وفاقی وزراء

دہشت گردی کے خلاف ایک ملک میں دو خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں: وفاقی وزراء
کیپشن: دہشت گردی کے خلاف ایک ملک میں دو خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں: وفاقی وزراء

ویب ڈیسک: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومتی عملداری اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہو چکی تھی، امید ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے حالات میں بہتری آئے گی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیے متعدد بار مذاکرات کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مؤثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات پر آمادہ نہیں ہوئے۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، ایسے میں دہشت گردی کے معاملے پر ملک میں دو مختلف پالیسیاں نہیں ہو سکتیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ایف سی کے تحت خیبرپختونخوا کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن یہ وسائل سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے، سیف سٹی کیمروں، فرانزک لیبارٹری اور پولیس کو جدید آلات فراہم کرنے پر کیوں خرچ نہیں کیے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔

ایمرجنسی کی مدت کا تعین نہیں کیا جا سکتا: اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت نافذ کی گئی۔ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اس فیصلے کی اہم وجوہات میں شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کی مدت کا فی الحال تعین نہیں کیا جا سکتا اور ضرورت پڑنے پر توسیع بھی ممکن ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشت گردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ بعد کے عرصے میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 8,600 ہو گئی۔ ان کے بقول دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور سکیورٹی فورسز نے اس دوران بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے۔

Watch Live Public News