ویب ڈیسک: جنیوا میں منعقدہ ایک ایونٹ میں سندھ طاس معاہدے اور پاکستان کے آبی حقوق سے متعلق بھارتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اقدام بین الاقوامی قانون کے اصولوں سے متصادم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان زیریں ریاست کی حیثیت سے دریائے سندھ کے پانی کے منصفانہ اور باقاعدہ بہاؤ کا حق رکھتا ہے۔
مقررین نے پرمننٹ کورٹ آف آربیٹریشن کے 31 اگست 2026 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق فیصلہ جاری کیا اور معاہدے کے تحت عبوری اقدامات بھی مقرر کیے۔
شرکا کے مطابق پاکستان میں زراعت، خوراک اور معیشت کا بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے، اس لیے پانی سے متعلق کسی بھی یکطرفہ اقدام کے خطے پر وسیع اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری اور بین الاقوامی آبی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
واضح رہے کہ پرمننٹ کورٹ آف آربیٹریشن نے 31 اگست 2026 کو سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق ایوارڈ جاری کیا، جبکہ بھارت نے عدالت کے دائرہ اختیار اور فیصلے کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔