ویب ڈیسک: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان روس کو علاقائی امن، سلامتی اور اقتصادی ترقی کا اہم شراکت دار سمجھتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
اویس لغاری کے مطابق پاکستان اور روس کے درمیان توانائی، زراعت، غذائی تحفظ، سیاحت اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی جدید بحالی سمیت توانائی کے شعبے میں روس کا تعاون اہم ہے، جبکہ پاک روس توانائی تعاون اور نئے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔
وفاقی وزیر نے شمال-جنوب ریل راہداری کو خطے کی معاشی ترقی اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے ریل روابط اور انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور سے تجارت کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اویس لغاری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا قابلِ تشویش ہے اور پاکستان کے پانی کے حق کو روکنے کی کوئی بھی کوشش اعلانِ جنگ کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے تنازع کو معاہدے میں موجود قانونی اور تنازع حل کرنے کے طریقہ کار کے تحت حل کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات علاقائی امن، استحکام اور غذائی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ گوادر اور شمال-جنوب رابطہ خطے میں تجارتی روابط بڑھانے کے لیے اہم ہیں، جبکہ پاکستان اور روس کے عوام اور میڈیا کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔