(ویب ڈیسک) امریکی ریاست ٹینیسی میں تقریباً تین دہائیوں قبل اپنی ہم جماعت کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والی 48 سالہ خاتون قیدی کرسٹا پائیک زہر کا مہلک انجکشن لگائے جانے کے باوجود کرشماتی طور پر زندہ بچ گئی ہیں۔
نیش وِل کی 'ریوربینڈ میکسیمم سیکیورٹی جیل' میں بدھ کی رات کرسٹا پائیک کو عدالتی حکم کے تحت زہر کا انجکشن دیا گیا۔
جیل حکام کے مطابق اس تکلیف دہ عمل کے اختتام پر پائیک کی سانسیں بدستور جاری رہیں اور وہ زندہ بچ گئیں۔ فوری طور پر سزا کا عمل روک کر انہیں انتہائی نگہداشت اور طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
کرسٹا پائیک ٹینیسی کی دو صدیوں (200 سال سے زائد) کی تاریخ میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی پہلی خاتون ہیں، جبکہ جدید تاریخ میں وہ واحد خاتون تھیں جنہیں نوعمری کے جرم پر یہ سزا دی جا رہی تھی۔
سزائے موت کی یہ کارروائی امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے آخری لمحات میں نچلی عدالت کے حکمِ امتناع کو کالعدم قرار دیے جانے کے محض چند گھنٹے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔
اس ناکامی کے فوری بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ریاست بھر میں رواں سال شیڈول تمام سزائے موت پر عملدرآمد فوری طور پر معطل کرتے ہوئے پابندی عائد کر دی ہے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز خود گورنر بل لی نے کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔
ٹینیسی میں رواں سال سزائے موت دینے کی یہ دوسری ناکام کوشش ہے۔ اس سے قبل مئی میں بھی جیل عملہ ایک قیدی کے جسم میں مناسب رگ (Vein) تلاش کرنے میں ناکام رہا تھا جس کے باعث کارروائی منسوخ کرنا پڑی تھی۔
کرسٹا پائیک کے وکلاء اور انسانی حقوق کے ماہرین جرم کے وقت ان کی کم عمری، ماضی میں جنسی زیادتی کے صدمات اور شدید ذہنی بیماریوں کی بنیاد پر اس سزا کی مسلسل مخالفت کر رہے تھے، اور اب اس ناکام کوشش کے بعد نئے آئینی و قانونی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔