ویب ڈیسک: عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں ختم ہونے والی دہائی کے دوران پاکستان کا بیرونی قرضہ تقریباً دوگنا ہو کر 135.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ ملکی برآمدات کا 33 فیصد قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرضہ 2015 میں 68.67 ارب ڈالر تھا، جو 2025 میں بڑھ کر 135.1 ارب ڈالر ہوگیا۔ اس میں 107.07 ارب ڈالر سرکاری و سرکاری ضمانت یافتہ، 17.58 ارب ڈالر نجی غیر ضمانت یافتہ اور 10.45 ارب ڈالر قلیل مدتی قرضہ شامل ہے۔
چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض دہندہ ہے، جس کے 22.4 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ عالمی بینک کے 19.2 ارب اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے 16.83 ارب ڈالر کے قرضے بھی پاکستان کے ذمے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نجی قرضوں پر اوسط شرح سود 8.6 فیصد جبکہ سرکاری قرضوں پر 3.6 فیصد ہے۔ نجی قرضوں کی واپسی کی اوسط مدت صرف 3 سال، جبکہ سرکاری قرضوں کی 16 سال ہے۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرضہ مجموعی قومی آمدنی کے 34 فیصد کے برابر ہے، جبکہ قرضوں کی ادائیگی ملکی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
رپورٹ میں قرضوں کا دباؤ کم کرنے کے لیے برآمدات بڑھانے، قرضوں کی بہتر شرائط حاصل کرنے اور مؤثر مالی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔