ویب ڈیسک: سیٹلائٹ ڈیٹا اور سائنسی شواہد نے بھارت میں فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات بے نقاب کردیں، فصلوں کی باقیات جلانے، صنعتی اخراج اور کوئلے کے استعمال کو آلودگی کے اہم ذرائع قرار دے دیا گیا۔
ناسا، یورپی یونین کے کوپرنیکس اور بھارتی سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق بھارت میں فضائی آلودگی کے متعدد بڑے اسباب خود ملک کے اندر موجود ہیں۔
2 نومبر 2026 کو دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس 324 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رات کے وقت PM2.5 کی اوسط مقدار 194 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی۔
بھارتی ادارے ICAR کے مطابق 15 ستمبر سے یکم نومبر تک سات ریاستوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کے 3 ہزار 316 واقعات ریکارڈ ہوئے۔ بھارتی پنجاب 1,514 واقعات کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ راجستھان میں 671 اور مدھیہ پردیش میں 566 واقعات سامنے آئے۔
بھارت کے INSAT-3DS سیٹلائٹ نے یکم نومبر کو آگ کے 90 واقعات ریکارڈ کیے، جبکہ 29 اکتوبر کو یہ تعداد صرف 17 تھی۔
دوسری جانب بھارتی تحقیق میں Sentinel-2 سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے ملک بھر میں 48 ہزار 928 اینٹوں کے بھٹوں کی نشاندہی ہوئی۔ بھارتی اینٹوں کی صنعت سالانہ تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ ٹن کوئلہ استعمال کرتی ہے، جبکہ صنعتی کارخانے اور بجلی گھر بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
یورپی یونین کے کوپرنیکس سیٹلائٹ نے یکم نومبر کو لاہور سے نئی دہلی تک دھوئیں اور آلودگی کی وسیع تہہ کی نشاندہی کی۔
بھارتی میڈیا نے پاکستان میں فصلوں کی باقیات جلانے کو دہلی کی آلودگی سے جوڑا، تاہم یہ اعتراف بھی کیا کہ صرف آگ کے واقعات کی تعداد سے آلودگی میں پاکستان کا حصہ ثابت نہیں ہوتا۔
سیٹلائٹ ڈیٹا اور سائنسی تحقیقات نے بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے، صنعتی اخراج اور کوئلے کے استعمال جیسے عوامل کی نشاندہی کردی ہے، جس سے فضائی آلودگی کے معاملے پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بھارتی بیانیے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔