ویب ڈیسک: امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے، جب کہ ریپبلکن امیدواروں کو مختلف نشستوں پر سخت مقابلے اور شکست کا سامنا ہے۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اہم انتخابی مقابلوں کے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ امیدواروں کو سبقت حاصل ہے، جب کہ ریپبلکن امیدوار پیچھے ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 133 اور ریپبلکنز کے 76 امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔ 435 ارکان پر مشتمل ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں جیتنا ہوں گی۔
امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج میں بھی ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس 12 نشستوں پر سبقت کے بعد مجموعی طور پر 46 نشستوں پر پہنچ گئے ہیں، جب کہ ریپبلکنز کو 6 نشستوں پر برتری حاصل ہے اور ان کی مجموعی تعداد 37 ہوگئی ہے۔
امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 100 میں سے کم از کم 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے پولنگ شروع ہوئی، جب کہ نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ کا آغاز صبح 6 بجے ہوا۔
وسط مدتی انتخابات کے نتائج تسلیم کروں گا، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابی نتائج تسلیم کریں گے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکن ہے دونوں جماعتیں کسی معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔
تین امریکی خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کردیا
امریکی وسط مدتی انتخابات میں تین خلابازوں نے خلا سے بھی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ناسا کے خلاباز انیل، لیوک اور جیسیکا نے خلائی اسٹیشن سے الیکٹرانک ووٹ ہیوسٹن اسپیس سینٹر بھجوائے۔ خلابازوں کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل میں شرکت اور ووٹ کا حق خلا میں رہتے ہوئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلم امیدوار بھی میدان میں
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلم امیدواروں کی شرکت بھی خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں کئی امیدواروں کو سیاسی حریفوں کا سامنا ہے، جب کہ بعض حلقوں میں ایک ہی جماعت کے امیدوار بھی آمنے سامنے ہیں۔
مشی گن سے فلسطینی نژاد امریکی رکنِ کانگریس رشیدہ طلیب ایک بار پھر انتخابی میدان میں ہیں، جہاں ان کا مقابلہ چار امیدواروں سے ہے۔ کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب کو بھی اپنی ہی جماعت کی امیدوار میلیسا ہرنینڈز سے انتخابی مقابلے کا سامنا ہے۔
امریکی سیاست میں مسلم امیدواروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے باعث یہ انتخابی مقابلے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔