ویب ڈیسک: کے ایم ایس کے مطابق بھارت سے آنے والی فضائی آلودگی نے پاکستان سمیت پورے خطے کی فضا کو زہر آلود کر دیا، جبکہ لاہور، بالائی پنجاب اور سرحدی اضلاع کی فضائی صورتحال خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی کے سیٹلائٹس بھارتی فضا میں آلودگی کی مسلسل موجودگی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں فصلوں کی باقیات جلانے سے اٹھنے والا دھواں پاکستانی علاقوں کی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے اعدادوشمار کے مطابق 15 ستمبر سے یکم نومبر 2026 کے دوران بھارت کی سات ریاستوں میں پرالی جلانے کے 3,316 واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی کسان سیٹلائٹس کی نگرانی سے بچنے کے لیے سہ پہر 3 بجے کے بعد فصلوں کی باقیات جلاتے ہیں، تاہم جغرافیائی مدار میں موجود سیٹلائٹس شام کے وقت بھی ان واقعات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بھارت میں صنعتی سرگرمیاں اور اینٹوں کے بھٹے بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا بڑا سبب ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق بھارت میں 10 لاکھ سے زائد اینٹوں کے بھٹے سالانہ تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ ٹن کوئلہ استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین نے خطے میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مشترکہ ماحولیاتی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔