(ویب ڈیسک)امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی دولت میں 60 ارب ڈالرز سے زائد کی تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔ الیکشن مہم میں تقریباً 446 ملین ڈالرز (تقریباً 44 کروڑ ڈالر) جھونکنے کے باوجود مسک کے حمایت یافتہ امیدواروں کو اہم میدانوں میں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اربوں ڈالر کا مالی نقصان اور حصص میں گراوٹ:
میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن نتائج سامنے آتے ہی ایلون مسک انتخابی رات کے سب سے بڑے مالیاتی نقصانات اٹھانے والے شخص بن کر ابھرے۔
ان کی اہم کاروباری کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی، جہاں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران ٹیسلا (Tesla) کے شیئرز میں5۔7فیصد جبکہ اسپیس ایکس (SpaceX) کی ویلیو ایشن میں تقریباً7۔6فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔
446 ملین ڈالر کی فنڈنگ اور ٹیکساس میں اپ سیٹ:
واشنگٹن پوسٹ کے تخمینے کے مطابق ایلون مسک نے کانگریس کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہمات میں 446 ملین ڈالرز کے خطیر فنڈز فراہم کیے تھے۔
اس سیاسی فنڈنگ کا بڑا حصہ ریاست ٹیکساس پر مرکوز تھا، جو مسک کی موجودہ کاروباری ریاست ہے، مگر مسک کے حمایت یافتہ سینیٹ اور کانگریس امیدواروں کو بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹیسلا اور اسپیس ایکس انضمام پر منفی اثرات:
انتخابی نتائج نے ایلون مسک کے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کو باہم ضم کرنے کے مبینہ منصوبوں کو شدید پیچیدگیوں میں ڈال دیا ہے۔
ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول والی کانگریس کی جانب سے ان دونوں بڑی کمپنیوں کے ممکنہ انضمام (Merger) کی باریک بینی سے جانچ پڑتال اور ریگولیٹری دباؤ میں اضافے کا امکان ہے، جس سے مسک کی مستقبل کی کارپوریٹ حکمتِ عملی کو سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔