(ویب ڈیسک) ایرانی سپریم لیڈر امام سید مجتبیٰ خامنہ ای نے 'عالمی استکبار کے خلاف جنگ کے قومی دن' پر اپنے اہم بیان میں امریکا کے سیاسی نظام اور وہاں ہونے والی انتخابی و جماعتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن میں اقتدار کی رسہ کشی یا حکمران جماعت کے بدلنے سے ایران کے خلاف اس کی بنیادی پالیسی اور دشمنی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگر اب بھی کچھ لوگ امریکا میں اقتدار کی منتقلی، انتخابات یا جماعتی رد و بدل (جیسے ڈیموکریٹس یا ریپبلکنز کے آنے جانے) سے کسی مثبت تبدیلی کی امید لگائے بیٹھے ہیں، تو وہ سخت ترین غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو رعایتیں دے کر دشمنی سے باز رکھنے کا تصور بالکل خام خیالی ہے، کیونکہ ظالم قوتوں کے سامنے ذرا سی بھی لچک یا پسپائی دشمن کو مزید جارحیت پر اکساتی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ خلیج فارس اور خاص طور پرآبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال نے امریکا کے 'ناقابلِ تسخیر' ہونے کے گھمنڈ اور افسانے کو مکمل طور پر خاک میں ملا دیا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ حالات خطے کے ان ممالک کی کمزوری کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جو اپنی عوام کے بجائے بڑی طاقتوں پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ بڑی طاقتیں مشکل وقت میں اپنے ہی اتحادیوں کے دفاع میں بے بس دکھائی دیتی ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول اور خطے میں امریکی اڈوں کا خاتمہ دراصل مسلط کی گئی تیسری جنگ کے خلاف ایک سخت ردِعمل تھا، اور اگر جارحیت دہرائی گئی تو ایران کا جواب مزید تباہ کن اور وسیع تر ہوگا۔
ان کے مطابق سپر پاور کی ساکھ کو دھچکا لگ چکا ہے، اور فوجی برتری سمیت سفارتی و بین الاقوامی اثر و رسوخ دونوں میدانوں میں امریکی زوال اب ناقابلِ واپسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔