ویب ڈیسک: دنیا میں بعض کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو صدیوں گزرنے کے باوجود لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رہتی ہیں۔ برطانیہ کے تاریخی شہر لنکن میں بھی ایک وفادار کتے کی ایسی ہی پراسرار کہانی مشہور ہے، جس کے بارے میں آج بھی بعض افراد دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی روح ایک قدیم پب میں موجود ہے۔
اس کتے کا نام تاریخ میں محفوظ نہیں، تاہم اس کی حنوط شدہ باقیات آج بھی لنکن قلعے میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ اس کی کہانی اس کے مالک ولیم کلارک سے جڑی ہے، جسے 1877 میں ایک گیم کیپر کے قتل کے جرم میں پھانسی دے دی گئی تھی۔
ولیم کلارک لنکن قلعے کے قریب واقع ’دی اسٹرگلرز اِن‘ نامی پب میں اکثر جایا کرتا تھا۔ اسے غیر قانونی شکار کے دوران ایک گیم کیپر نے پکڑ لیا تھا، تاہم اس واقعے میں گیم کیپر قتل ہوگیا، جس کے بعد کلارک کو قتل کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی۔
کہا جاتا ہے کہ پھانسی سے قبل کلارک نے اسی پب میں اپنی زندگی کا آخری مشروب پیا تھا۔ اسے 1877 میں لنکن قلعے کے کوب ہال میں پھانسی دی گئی۔
مقامی روایت کے مطابق مالک کی موت کے بعد اس کا کتا پب کے باہر بیٹھ کر اس کی واپسی کا انتظار کرتا رہا اور مسلسل روتا تھا۔ پب کے مالک نے بالآخر اسے اپنے پاس رکھ لیا، تاہم کچھ عرصے بعد کتا بھی مر گیا۔ بعد ازاں اس کی باقیات کو حنوط کروا دیا گیا، جو آج بھی لنکن قلعے میں محفوظ ہیں۔
150 سال بعد بھی پب میں بھوت کی موجودگی کے دعوے
تقریباً ڈیڑھ صدی گزرنے کے باوجود ’دی اسٹرگلرز اِن‘ آنے والے بعض افراد دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں پب میں کسی کتے کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے قریب سے کتے کے گزرنے کا احساس ہوا، جبکہ بعض نے دروازے پر پنجے مارنے اور کھرچنے جیسی آوازیں سننے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
تاہم پب کا عملہ ان دعوؤں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ وہاں کام کرنے والی میگن ایلن وڈورڈ کے مطابق یہ ایک پرانی بھوتوں کی کہانی ہے، جس میں حقیقت کا عنصر زیادہ نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پب کی تاریخی حیثیت اور ایک مجرم سے اس کا تعلق لوگوں کے ذہنوں میں مافوق الفطرت واقعات کے تصورات کو جنم دیتا ہے، اسی لیے بہت سے لوگ یہاں آتے ہی اسے آسیب زدہ تصور کرنے لگتے ہیں۔