یومِ شہدائے جموں: 1947 کے سانحے میں جانیں گنوانے والے کشمیری مسلمانوں کو خراجِ عقیدت

یومِ شہدائے جموں: 1947 کے سانحے میں جانیں گنوانے والے کشمیری مسلمانوں کو خراجِ عقیدت
کیپشن: یومِ شہدائے جموں: 1947 کے سانحے میں جانیں گنوانے والے کشمیری مسلمانوں کو خراجِ عقیدت

ویب ڈیسک: اکتوبر اور نومبر 1947 میں ڈوگرہ حکمران ہری سنگھ کی فوج کی قیادت میں نیم فوجی دستوں اور ایک دہشت گرد ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) نے ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔

یہ ہندو ڈوگرہ مہاراجہ کی افواج کے ہاتھوں کشمیری مسلمانوں کی سب سے بڑی نسل کشیوں میں سے ایک تھی۔ مؤرخین کا مؤقف ہے کہ نازیوں کی جانب سے سابقہ نسل کشی چار سے پانچ سال میں کی گئی، جبکہ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی صرف دو ماہ کے عرصے میں ہوئی، جس کے نتیجے میں 2,60,000 افراد قتل ہوئے۔

لندن کے اخبار دی ٹائمز میں 10 اگست 1948 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ’’ہندو ڈوگرہ مہاراجہ کی افواج نے 2,37,000 مسلمانوں کو منظم طریقے سے ختم کر دیا (سوائے ان لوگوں کے جو سرحد کے راستے پاکستان فرار ہونے میں کامیاب ہوئے)‘‘، جبکہ بیشتر اندازوں کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

دنیا نے امریکی نائن الیون اور نازیوں کے مظالم کو بہت زیادہ توجہ دی، لیکن کشمیریوں کی نسل کشی کو فراموش کر دیا، جہاں بے گناہ کشمیریوں کی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 100 گنا زیادہ تھی۔ امریکہ میں نائن الیون کے واقعے میں 2,976 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اندازوں کے مطابق اکتوبر اور نومبر 1947 میں کشمیری نسل کشی کے دوران 2,60,000 سے زائد افراد کا قتلِ عام کیا گیا۔

تقریباً پانچ لاکھ افراد کو بے گھر کر کے پاکستان کی سرحد کے پار پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر منتقل ہونے پر مجبور کیا گیا، جہاں پناہ گزینوں کو امن اور تحفظ ملا۔ اس کے نتیجے میں جموں میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا، حالانکہ اس سے قبل وہ مجموعی آبادی کا 61 فیصد تھے۔

بھارتی پنجاب کے پٹیالہ اور کپور تھلہ سے ہندوؤں کی افواج اور سکھوں کے لشکر لائے گئے، جبکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS)، جو ایک دائیں بازو کی ہندو تنظیم ہے اور جس کا مقصد مسلمانوں کا خاتمہ تھا، کو مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور ان کے قتلِ عام کے لیے متحرک کیا گیا۔

 آر ایس ایس کے ہندو انتہا پسند گروہوں اور سکھوں کے لشکروں کو جولائی سے اکتوبر کے دوران عام شہریوں کے لباس میں تعینات کیا گیا تاکہ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی جا سکے۔ ہندو ڈوگرہ حکمران کی افواج اور سکھوں کے لشکروں کی جانب سے کیے گئے ہولناک قتلِ عام ریاستی سرپرستی میں نسل کشی تھی، جس کا مقصد جموں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا تھا، جہاں اس وقت مسلمانوں کی اکثریت تھی۔

 مہاراجہ ہری سنگھ کا آر ایس ایس کی حمایت سے اس میں ملوث ہونا، جواہر لعل نہرو کے 17 اپریل 1949 کو ولبھ بھائی پٹیل کے نام لکھے گئے خط سے ظاہر ہوتا ہے، جس کا حوالہ فرنٹ لائن میگزین میں دیا گیا ہے۔ یہ خط جموں و کشمیر کی صورتحال سے متعلق ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے جواب میں لکھا گیا تھا۔ مذکورہ بالا انٹیلی جنس رپورٹ میں دیگر امور کے علاوہ جموں صوبے میں نام نہاد علاقائی استصوابِ رائے کے لیے بڑھتی ہوئی ہندو تحریک کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہ نظریہ اس یقین پر مبنی تھا کہ پورے کشمیر میں استصوابِ رائے کی صورت میں شکست یقینی ہے، چنانچہ آبادیاتی برتری حاصل کرنے کے لیے مہاراجہ اور آر ایس ایس نے مسلمانوں کی نسلی تطہیر شروع کر دی۔

مہاتما گاندھی نے بھی 25 دسمبر 1947 کو جموں کی صورتحال پر تبصرہ کیا، جس کا ذکر ان کے مجموعہ تصانیف کی جلد 90 میں موجود ہے: ’’جموں کے ہندوؤں اور سکھوں، اور باہر سے وہاں آنے والوں نے مسلمانوں کو قتل کیا۔‘‘

 گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ’’کشمیر کا مہاراجہ وہاں ہونے والے واقعات کا ذمہ دار ہے، مسلمان خواتین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔‘‘

وید بھاسن (1 مئی 1929 – 5 نومبر 2015) جموں سے تعلق رکھنے والے ایک معروف کشمیری پنڈت، صحافی، سیاسی کارکن اور طلبہ رہنما تھے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ’’ضلع ادھم پور میں، بالخصوص ادھم پور شہر، چنینی، رام نگر اور ریاسی کے علاقوں میں مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا گیا۔ بھدرواہ میں بھی بڑی تعداد میں مسلمان فرقہ وارانہ حملہ آوروں کا نشانہ بنے۔ یہ آر ایس ایس کے کارکنوں کی جانب سے منظم نسل کشی تھی، جن کے ساتھ سکھ بھی شامل ہو گئے تھے اور انہیں ہندو ڈوگرہ مہاراجہ کی انتظامیہ کی مکمل سرپرستی اور تحفظ حاصل تھا۔‘‘

 مہر چند مہاجن کو خصوصی طور پر بھارت سے جموں و کشمیر کا وزیراعظم بنانے کے لیے لایا گیا تاکہ وہ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی نگرانی کریں، جبکہ بعد ازاں نہرو حکومت نے انہیں چیف جسٹس کا عہدہ دے کر نوازا۔

یو این سی آئی پی (UNCIP) کی 1949 کی رپورٹ ’’رپورٹ آف دی سب کمیٹی آن ویسٹرن کشمیر‘‘ میں ایک زیلدار (محصول وصول کرنے والے افسر) کا ذکر ہے، جس نے یو این سی آئی پی کو بتایا کہ ’’20 اکتوبر 1947 کو اس نے مہاراجہ کو بھمبر کے دورے کے دوران یہ حکم دیتے ہوئے سنا کہ مسلمانوں کو ختم کر دیا جائے، اور اسے مہاراجہ کو خود دو سے تین افراد پر گولیاں چلاتے ہوئے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔‘‘

یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑی نسل کشی تھی۔ اس کا پیمانہ کہیں زیادہ وسیع تھا، کیونکہ 2,60,000 سے زائد کشمیری مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ غزہ میں فلسطینیوں کی موجودہ اسرائیلی نسل کشی، جس میں 67,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، بھی جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی نسل کشی کے مقابلے میں کم دکھائی دیتی ہے۔ ہندو ڈوگرہ مہاراجہ کی افواج نے بربریت کی تمام حدیں پار کر دی تھیں۔

دنیا بھر میں کشمیری ہر سال 6 نومبر کو یومِ شہدائے جموں مناتے ہیں تاکہ ان نہتے اور بے گناہ شہریوں کی عظیم قربانیوں کو یاد کیا جا سکے، جنہیں 1947 میں ہندو ڈوگرہ مہاراجہ کی افواج اور آر ایس ایس کے گروہوں نے بے دردی سے قتل کیا تھا۔

معروف سیاسی کارکن اور مصنف کرشن دیو سیٹھی نے 6 دسمبر 2011 کو ایک انٹرویو کے دوران کہا: ’’مہاراجہ اور اس کی انتظامیہ نے فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا، جب ہری سنگھ سری نگر سے واپس آیا‘‘ تاکہ مسلمانوں کے قتلِ عام کا جواز پیدا کیا جا سکے۔

مہاراجہ نے جموں میں آر ایس ایس کو فروغ دینے اور اس کی سرپرستی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آر ایس ایس کے اہم رہنما، جیسے بلراج مدھوک، کیدار ناتھ ساہنی، وجے ملہوترا اور مدن لال کھرانہ، 1940 کی دہائی میں جموں میں آر ایس ایس کے انچارج کے طور پر تعینات رہے۔ گورنر چیت رام چوپڑا اور ڈی آئی جی پولیس بخشی ادھے چند نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انتظامیہ نے مسلح ہندو اور سکھ جتھوں کو منظم کیا اور تربیت دی۔

مہاراجہ کی انتظامیہ نے نہ صرف تمام مسلمانوں کو اپنے ہتھیار جمع کرانے کا حکم دیا بلکہ ڈوگرہ فوج میں موجود بڑی تعداد میں مسلمان فوجیوں اور مسلمان پولیس افسران کو بھی برطرف کر دیا۔ مہاراجہ کے بھمبر کے دورے کے بعد بڑے پیمانے پر قتلِ عام کے واقعات پیش آئے۔

جموں کے ہندوؤں اور سکھوں، نیز مہاراجہ کی انتظامیہ کی دعوت پر باہر سے وہاں آنے والوں نے بے گناہ مسلمانوں کو قتل کیا۔ مسلمان خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔

اسی طرح بڑی تعداد میں مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کے بہانے لاریوں میں بھر کر لے جایا گیا، لیکن راستے میں ہی ان کا قتلِ عام کر دیا گیا۔ جموں کے علاقے کی 60 فیصد سے زائد آبادی پر مشتمل مسلمان، قتلِ عام اور جبری بے دخلی کے بعد اقلیت میں تبدیل ہو گئے۔

بھارت نے کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں اور ذمہ داریوں سے انحراف کیا؛ 1948 میں فوجیں اتار کر اور جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جما کر ان کے حقِ خودارادیت کو دبایا۔

سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیریوں کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ کشمیری اب ڈوگرہ راج کے تحت نہیں رہ رہے، لیکن بھارتی غیر قانونی قبضے کے تحت ان کے حالات مزید بدتر ہو چکے ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارت کی کوشش جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی ہے۔ 1977 کے اضافی پروٹوکول اول کے آرٹیکل 85(4)(a) کے مطابق ’’قابض طاقت کی جانب سے اپنی شہری آبادی کے بعض حصوں کو اس علاقے میں منتقل کرنا جس پر اس نے قبضہ کر رکھا ہو‘‘ پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اس وقت بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں تقریباً دس لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جس کے باعث یہ دنیا کا سب سے زیادہ عسکری موجودگی والا علاقہ بن چکا ہے، جہاں انسانی حقوق کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔

بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے وہی پالیسی اختیار کر رہا ہے جو ہری سنگھ نے اپنائی تھی۔

2019 سے بھارتی حکومت نے مقامی باشندوں کے جائیداد کے حقوق میں تبدیلیاں کی ہیں، جس سے عوام میں وسیع پیمانے پر خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ نئے قوانین بھارت کے واحد مسلم اکثریتی خطے کی آبادی کا تناسب تبدیل کر دیں گے۔

مودی حکومت کے دور میں کشمیریوں پر جبر اور ان کا قتلِ عام جاری ہے؛ سری نگر 2035 پلان کے تحت 34 لاکھ بھارتی شہریوں کی آبادکاری کے لیے کشمیریوں کی جبری منتقلی اور گھروں کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے، لیکن دنیا اس صورتحال سے بظاہر بے خبر ہے۔

بھارتی حکام مقبوضہ جموں و کشمیر میں بے بس کشمیریوں کے حقوق اور آوازوں کے بجائے سیاسی اور علاقائی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

سانحۂ جموں کشمیر کی تاریخ کے بدترین المیوں میں سے ایک ہے۔ کشمیر میں جاری مستقل تنازع کی جڑیں 1947 کے قتلِ عام میں پیوست ہیں۔
آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد مودی اور آر ایس ایس مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسرائیلی نوآبادیاتی نظام اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے طرز پر نوآبادیاتی آبادکاری کر رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت خاموش ہے جبکہ جموں کو لداخ سے الگ کیا جا رہا ہے، جو ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔
عبداللہ خاندان جیسی کٹھ پتلی قیادت بھارتی حکومت کو خوش کرنے کے لیے ہندو خواتین کے ساتھ شادیاں کر رہی ہے۔

Watch Live Public News