برازیل میں 150 سال پرانے گھر کے نیچے غلاموں کا تاریخی قبرستان دریافت

برازیل میں 150 سال پرانے گھر کے نیچے غلاموں کا تاریخی قبرستان دریافت
کیپشن: برازیل میں 150 سال پرانے گھر کے نیچے غلاموں کا تاریخی قبرستان دریافت

ویب ڈیسک: برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں تقریباً 150 سال پرانے ایک گھر کی مرمت کے دوران ہونے والی حیران کن دریافت نے غلامی کے دور کی ایک تلخ حقیقت بے نقاب کر دی۔

گھر کے فرش کے نیچے انسانی ہڈیاں ملنے پر ماہرین آثارِ قدیمہ نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ یہ مکان ایک ایسے تاریخی قبرستان کے اوپر تعمیر کیا گیا تھا، جہاں غلامی کے دور میں افریقہ سے لائے گئے ہزاروں غلاموں کو دفن کیا جاتا تھا۔

یہ دریافت 1996 میں اس وقت ہوئی جب گھر کی مالکہ مرسڈیز بپٹسٹا گومز پریرا نے تزئین و آرائش کے لیے فرش اکھڑوایا۔ کھدائی کے دوران مزدوروں کو انسانی ہڈیاں، دانت اور دیگر باقیات ملیں، جن کی بعد ازاں ماہرین نے تصدیق کی کہ یہ 18ویں اور 19ویں صدی میں استعمال ہونے والے تاریخی قبرستان کا حصہ ہیں۔

مورخین کے مطابق 1769 سے 1830 کے درمیان اس مقام پر 20 ہزار سے 40 ہزار افریقی نژاد غلام دفن کیے گئے۔ یہ وہ افراد تھے جو بحرِ اوقیانوس کے سفر کے دوران یا برازیل پہنچنے کے فوراً بعد بیماری، بھوک اور غیر انسانی حالات کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔ متعدد لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن یا نذرِ آتش کیا گیا تھا۔

گھر کی مالکہ کے مطابق فرش کے کسی بھی حصے کی کھدائی کی جائے تو نیچے انسانی باقیات مل جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کا گھر ایک تاریخی اجتماعی قبرستان کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔

بعد ازاں اس مقام کو محفوظ کرتے ہوئے یہاں پروتوس نووس انسٹی ٹیوٹ کے نام سے ایک میوزیم قائم کیا گیا، جہاں دریافت ہونے والی آثارِ قدیمہ کی باقیات کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ یہ مقام آج غلامی کے دور کی تاریخ اور اس کے انسانی المیے کی یادگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔

Watch Live Public News