ویب ڈیسک: سابق پاکستانی سفیر مسعود خان نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے قطر کے ذریعے امریکا کو نیا ایٹمی فارمولا بھجوا دیاہے، جس کے تحت تہران یورینیم کی افزودگی 3.6 فیصد کی سویلین حد تک کم کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔
مسعود خان کے مطابق ایران کے جوہری ذخائر کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بڑی رکاوٹ ہے، تاہم امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد سفارتی پیش رفت کے واضح امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی تصادم کی صورت میں پورے خطے اور دنیا کو شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مسعود خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے اور پاکستانی سفارت کاری نے خطے میں امن کی امیدیں روشن کی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، قطر اور عمان علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ حوثی حملوں کا خاتمہ اور جنگ بندی پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔