ویب ڈیسک: جگر کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے سائنس دانوں نے ایک نیا تجرباتی بلڈ ٹیسٹ تیار کیا ہے، جو جگر کو پہنچنے والے نقصان اور بیماری کی شدت معلوم کرنے میں ایم آر آئی کے تقریباً برابر درست نتائج فراہم کرسکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ’لیکوئڈ ٹرانسفارمر‘ نامی یہ ٹیسٹ طبی تحقیق سے وابستہ کمپنی ہیپٹا نے تیار کیا ہے۔ اس کے نتائج امریکی شہر ڈینور میں ہونے والے امریکن ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف لیور ڈیزیز کے اجلاس میں پیش کیے گئے۔
محققین کے مطابق یہ ٹیسٹ خون کے عام نمونے میں موجود ڈی این اے کا تجزیہ کرکے جگر کی اندرونی تبدیلیوں اور بیماری سے پہنچنے والے نقصان کی شدت کا اندازہ لگاتا ہے۔
فی الحال جگر میں داغ دار بافتوں اور بیماری کی شدت جانچنے کے لیے میگنیٹک ریزوننس ایلاسٹوگرافی ( ایم آر آئی) یا بائیوپسی کی ضرورت پڑتی ہے۔ تاہم یہ سہولیات ہر جگہ دستیاب نہیں، جبکہ عام خون کے ٹیسٹ جگر کے نقصان کی مکمل شدت بتانے میں محدود ہیں۔
نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے جگر میں چربی جمع ہونے، سوزش اور بافتوں کو پہنچنے والے نقصان کی شناخت کے ساتھ بیماری کی مختلف اقسام میں بھی فرق کیا جاسکتا ہے۔ ان میں میٹابولک خرابی، الکحل کے استعمال اور دونوں عوامل کے باعث پیدا ہونے والی جگر کی بیماریاں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹو ہیپاٹائٹس میں جگر میں چربی جمع ہونے کے ساتھ سوزش اور بافتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے پر یہ بیماری جگر کے سکڑنے اور اس کے افعال متاثر ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو سے وابستہ اور ہیپٹا کے چیف میڈیکل اینڈ سائنٹیفک ایڈوائزر ڈاکٹر روہت لومبا کے مطابق جگر میں داغ دار بافتوں کی تشخیص کے لیے ایم آر آئی طویل عرصے سے قابل اعتماد طریقہ رہا ہے، اس لیے ایک عام بلڈ ٹیسٹ کا اس کے قریب ترین نتائج دینا اہم پیش رفت ہے۔
تاہم یہ ٹیسٹ ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ عام مریضوں کے لیے اس کی دستیابی اور طبی تشخیص میں استعمال سے پہلے مزید تحقیق اور توثیق ضروری ہے۔