ویب ڈیسک: جین تھراپی اور مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت نے انسانی عمر میں غیر معمولی اضافے کے امکانات کو نئی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین اور بائیوٹیک کمپنیوں کی جانب سے ایسی تحقیقات جاری ہیں جن کا مقصد انسان کو زیادہ طویل اور صحت مند زندگی فراہم کرنا ہے۔
ہارورڈ کے محقق ڈیوڈ سنکلیئر کی قائم کردہ کمپنی لائف بائیو سائنسز نے جزوی خلیاتی ری پروگرامنگ پر مبنی تھراپی ER-100 کا پہلا انسانی کلینیکل ٹرائل شروع کیا ہے۔ اس طریقہ علاج میں گلوکوما اور اعصابی نقصان کے مریضوں کی آنکھوں میں مخصوص جینز داخل کرکے خلیوں کی حیاتیاتی عمر کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ابتدائی حفاظتی نتائج 2026 کے آخر یا 2027 کے اوائل میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ سنکلیئر کے مطابق مستقبل میں انسانی عمر میں نمایاں اضافہ ممکن ہوسکتا ہے، جبکہ جینیاتی ماہر جارج چرچ بھی طویل عمری سے متعلق تحقیق میں تیز پیش رفت کی توقع رکھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت بھی اس شعبے میں تحقیق کو تیز کر رہی ہے، جس کے ذریعے جینز کو جسم تک پہنچانے کے محفوظ طریقوں اور ری پروگرامنگ پروٹینز کے بہتر ورژنز پر کام جاری ہے۔
چوہوں پر تجربات میں حوصلہ افزا نتائج
جانوروں پر ہونے والی مختلف تحقیقات میں عمر رسیدگی کے عمل کو سست کرنے اور صحت مند عمر بڑھانے کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ بعض تجربات میں سینولائٹک امیونو تھراپی، اسٹیم سیلز، ریپامائسن اور دیگر مرکبات کے ذریعے چوہوں کی عمر میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق انسانوں میں ان طریقۂ علاج کی افادیت اور طویل مدتی حفاظت ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔ حادثات، نئی بیماریاں اور انسانی حیاتیات کی بنیادی حدود بھی عمر میں غیر معمولی اضافے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
اس کے باوجود حالیہ برسوں میں ہونے والی پیش رفت نے عمر رسیدگی کو سست کرنے اور صحت مند انسانی عمر بڑھانے کی تحقیق کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے، تاہم لافانی زندگی کا حصول اب بھی سائنسی طور پر بہت دور ہے۔