موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج میں اہم پیش رفت

موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج میں اہم پیش رفت
کیپشن: موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج میں اہم پیش رفت

ویب ڈیسک: موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امید افزا خبر سامنے آئی ہے، جہاں نئی آزمائشی دوا ایچ آر ایس 7535 (سیفی گلپرون) نے کلینیکل آزمائشوں کے آخری مرحلے (فیز تھری) میں حوصلہ افزا نتائج دیتے ہوئے اپنے بنیادی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی بایوفارما کمپنی کیلیرا تھیراپیوٹکس نے بتایا ہے کہ اس کی شراکت دار چینی دوا ساز کمپنی جیانگسو ہینگروئی فارماسیوٹیکل کی جانب سے چین میں کیے گئے دو الگ الگ فیز تھری کلینیکل ٹرائلز میں اس دوا نے موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس، دونوں کے علاج میں مثبت نتائج دیے ہیں۔

ایچ آر ایس 7535 ایک جدید زبانی (اورل) دوا ہے، جو جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونِسٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ جسم میں بھوک کم کرنے، خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے اور وزن میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے، جبکہ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے انجیکشن کے بجائے گولی کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد پر کیے گئے مطالعے میں 44 ہفتوں کے بعد شرکاء کے جسمانی وزن میں اوسطاً 10.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 50 ہفتوں میں یہ کمی بڑھ کر 11.1 فیصد تک پہنچ گئی۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق اب تک چین میں دو ہزار سے زائد افراد کو یہ دوا دی جا چکی ہے، اور دونوں مطالعات میں جگر کو نقصان پہنچنے کے کوئی نمایاں شواہد سامنے نہیں آئے، جسے ماہرین ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

یہ دوا چینی کمپنی ہینگروئی فارما نے تیار کی ہے، جبکہ 2024 میں گریٹر چائنا سے باہر اس کی تیاری اور فروخت کے حقوق امریکی کمپنی کیلیرا تھیراپیوٹکس کو منتقل کر دیے گئے تھے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ مراحل اور ریگولیٹری جائزوں میں بھی یہی نتائج برقرار رہے تو ایچ آر ایس 7535 موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج کے لیے ایک مؤثر، آسان اور کم تکلیف دہ متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس دوا کی عام دستیابی سے قبل متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی منظوری ضروری ہوگی۔

Watch Live Public News