وزن کم کرنے والے انجیکشنز صرف موٹاپے نہیں، شوگر کنٹرول میں بھی مؤثر قرار

وزن کم کرنے والے انجیکشنز صرف موٹاپے نہیں، شوگر کنٹرول میں بھی مؤثر قرار
کیپشن: وزن کم کرنے والے انجیکشنز صرف موٹاپے نہیں، شوگر کنٹرول میں بھی مؤثر قرار

ویب ڈیسک: ذیابیطس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے انجیکشنز (مونجارو، ویگووی اور اوزیمپک) صرف موٹاپے کے علاج تک محدود نہیں بلکہ بعض مریضوں میں خون میں شوگر کی سطح بہتر انداز میں کنٹرول کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ان کا استعمال صرف ماہر ڈاکٹر کی نگرانی میں ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ انجیکشنز ایسے ہارمونز کی نقل کرتے ہیں جو بھوک کم کرتے ہیں، انسولین کے اخراج کو بہتر بناتے ہیں اور خون میں گلوکوز کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے استعمال سے وزن میں کمی، شوگر کے طویل مدتی اشاریے (HbA1c) میں بہتری، دل کی بیماریوں کے خطرے میں کمی اور بعض مریضوں میں انسولین پر انحصار کم ہونے کے امکانات بھی دیکھے گئے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ افراد بظاہر دبلے ہونے کے باوجود اندرونی چربی (visceral fat) کی وجہ سے ذیابیطس کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے باعث ایسے مریض بھی اس علاج سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، خاص طور پر جگر میں چربی، غیر مستحکم شوگر یا ادویات کے عدم برداشت کے مریض۔

ڈاکٹرز کے مطابق علاج شروع کرنے سے قبل مریض کی عمر، قد، وزن، بیماریوں اور ذیابیطس کی شدت کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان انجیکشنز کے ممکنہ مضر اثرات میں متلی، قے، قبض، اسہال، پیٹ پھولنا، ضرورت سے زیادہ وزن میں کمی اور پٹھوں کی کمزوری شامل ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں پتے کی بیماری، لبلبے کی سوزش اور جسم میں پانی کی کمی جیسے سنگین مسائل بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق بعض مریضوں میں وزن میں کمی کے دوران چربی کے ساتھ ساتھ 26 سے 45 فیصد تک عضلاتی وزن بھی کم ہو سکتا ہے، جس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے علاج کے دوران پروٹین سے بھرپور غذا اور باقاعدہ ورزش کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ انجیکشنز ہر مریض کے لیے موزوں نہیں، اور انہیں صرف مکمل طبی معائنے اور ماہر ذیابیطس ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔

Watch Live Public News