ویب ڈیسک: ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ نے جنوری سے 13 جولائی تک مختلف ادویات اور سرنجز کے 2,461 نمونوں کی جانچ کے بعد 79 نمونوں کو غیر معیاری یا جعلی قرار دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق 30 آٹو ڈس ایبل سرنجز بھی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتریں۔ لیبارٹری کا کہنا ہے کہ بعض سرنجز مکمل طور پر آٹو ڈس ایبل نہیں تھیں، جس کے باعث انہیں دوبارہ استعمال کیے جانے کا خدشہ ہے۔
ڈائریکٹر ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ ڈاکٹر سید عدنان رضوی کے مطابق ایک ہی سرنج مختلف مریضوں پر استعمال ہونے سے ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور خون کے ذریعے منتقل ہونے والی دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ علاج بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 20 ہربل مصنوعات میں غیر قانونی طور پر ایلوپیتھک اجزا پائے گئے، جبکہ 9 ادویات ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سے رجسٹرڈ نہیں تھیں۔
ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے متعلقہ اداروں کو غیر معیاری اور جعلی مصنوعات کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔