کینسر کی 9 غیر قانونی اور جعلی ادویات کی فروخت کا انکشاف، ڈریپ نے پابندی عائد کر دی

کینسر کی 9 غیر قانونی اور جعلی ادویات کی فروخت کا انکشاف، ڈریپ نے پابندی عائد کر دی
کیپشن: کینسر کی 9 غیر قانونی اور جعلی ادویات کی فروخت کا انکشاف، ڈریپ نے پابندی عائد کر دی

ویب ڈیسک: پاکستانی مارکیٹ میں کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بھارتی اور دیگر غیر ملکی ساختہ مبینہ جعلی اور غیر قانونی ادویات کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ( ڈریپ) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 9 ادویات کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ڈریپ نے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی کی رپورٹ پر فوری نوعیت کا ریپڈ الرٹ جاری کیا، جس میں مذکورہ ادویات کو جعلی اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ ادویات بھارتی، جرمن اور بنگلہ دیشی کمپنیوں کی تیار کردہ ظاہر کی گئی تھیں، تاہم ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں کیے گئے تجزیے کے دوران ان کے نمونوں میں مطلوبہ خام مال اور اجزا کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ڈریپ کے مطابق یہ ادویات جگر، گردے، پھیپھڑوں، تھائیرائیڈ اور بریسٹ کینسر کے علاج میں استعمال کی جاتی ہیں۔ انہیں ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت جعلی اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ ادویات غیر مجاز ذرائع سے مارکیٹ میں پہنچائی گئی تھیں۔

اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کا معیار، حفاظت اور مؤثریت واضح نہیں، جبکہ ان کا استعمال کینسر کے مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈریپ نے جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات کا حکم دیتے ہوئے ریگولیٹری فورس اور صوبائی ڈرگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹس کو مارکیٹ نگرانی مزید سخت کرنے اور مشکوک ادویات کے تمام بیچز فوری طور پر قبضے میں لینے کی ہدایت کر دی ہے۔

Watch Live Public News